Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

ایک ہندوستانی عالم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے یہاں کے ایک تعلیمی ادارہ میں اصولِ فقہ پر تخصص کیا ہے اور اس پر مقالہ لکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ کی ملاقات کسی غیر مسلم سے ہو اور وہ پوچھے کہ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ایک جملہ میں بتائیے تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔ وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسلمان آپ سے کہے کہ اسلام کی کوئی آفاقی تعلیم بتائیے تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے۔ عجیب بات ہے کہ اس سوال کا بھی کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ پھر میں نے کہا کہ اب میں آپ کے اپنے موضوع تحقیق کے بارہ میں ایک سوال کرتا ہوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اجتہادِ مطلق کیا ہے اور اجتہادِ مقید کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اجتہادِ مطلق کی بہت سی شرطیں ہیں اور آج کسی میں یہ شرطیں نہیں پائی جاتیں۔ البتہ جزئیات میں مطلق اجتہاد کیا جاسکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ موجودہ زمانہ میں ہزاروں مشہور علماء ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی شخص آپ کے نزدیک اجتہادِ مطلق کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکا میں رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا میں بہت زیادہ اسلامی کام ہورہا ہے۔ میں نے کہا کہ میں ایک درجن سے زیادہ بار امریکا گیا ہوں ۔ میں نے امریکا میں بہت کچھ پڑھا ہے اور اس کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جس چیز کو آپ لوگ اسلامک ورک کہتے ہیں وہ دراصل کمیونٹی ورک (community work) ہوتا ہے نہ کہ اسلامک ورک۔

اصل یہ ہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں میں جہاں مسلمان روزگار کے لئے رہتے ہیں وہ وہاں کی مقامی سوسائٹی سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ انسان ایک سوشل اینمل (social animal) ہے وہ سوسائٹی چاہتا ہے۔ اس ضرورت کے تحت امریکا وغیرہ میں کچھ اجتماعی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے سوشلائزیشن (socialization) کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہیں۔ البتہ مسلمان اپنے مخصوص کلچرل بیک گراؤنڈ کی بنا پر ان کو اسلام کا نام دے دیتے ہیں۔ اس قسم کا کمیونٹی ورک ہر مذہبی گروہ میں دیکھا جاسکتا ہے، مثلاً ہندوؤں میں اور سکھوں میں اور جینیوں میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page