ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
اسلامک ورک حقیقتاً وہ ہے جو دعوہ ورک ہو۔ یعنی غیر مسلموں کو اسلام کا خدائی پیغام پہنچانا۔ مگر یہ دعوہ ورک وہاں سرے سے موجود ہی نہیں۔ کیوں کہ دعوت کا کام انسانی محبت کئے جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ دعوت دراصل محبت اور خیر خواہی کا اظہار ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرتے ہیں، وہ ان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ اس قابل ہی نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے درمیان دعوت کا کام کر سکیں۔
ایک صاحب سے ہندوستان میں ہونے والے الیکشن (۲۰۰۴) کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں زور و شور کے ساتھ چودھویں لوک سبھا کے الیکشن کی مہم چل رہی ہے۔ بنیادی طور پر یہ مقابلہ دو بڑی پارٹیوں کے درمیان ہے، بی جے پی اور کانگریس۔ مگر یہ طے شدہ ہے کہ اس الیکشن میں خواہ کوئی بھی پارٹی جیتے مگر انڈیا کے لئے موجودہ حالات میں ہار کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
میں نے کہا کہ انڈیا کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد وہاں صحیح رخ پر قومی تعمیر کا آغاز نہ ہوسکا۔ ابتدائی قومی لیڈرزیادہ تر سوشلسٹ تھے۔ چنانچہ انھوں نے سوشلسٹ ماڈل کو سامنے رکھ کر تعمیری کام شروع کیا۔ انھوں نے پرائیویٹ سیکٹر پر اتنی پابندیاں لگائیں کہ وہ ابھر نہ سکا۔ دوسرے یہ کہ پبلک سیکٹر کے نام پر بہت بڑے بڑے اقتصادی ادارے قائم کئے ۔ یہ پبلک سیکٹر، ایک ہندو جرنلسٹ ارون شرما کے بقول، اقتصادی ترقی میں تو معاون نہ ہوسکا البتہ اس نے دو برائیاں پیدا کر دیں۔ ایک سرکاری انتظامیہ کا کرپشن اور دوسرے کروڑوں ملازمین کی صورت میں لیتھارجی (lethargy) کا مسئلہ، یعنی کام کے بغیر تنخواہ لینا۔
اب مشکل یہ ہے کہ اگر پبلک سیکٹر کو ختم کر کے پرائیویٹ اکانومی کو فروغ دیا جائے تو اقتصادی ترقی تو ہوتی ہے مگر اسی کے ساتھ بے روزگاروں کی ایک فوج وجود میں آتی ہے جن کے جذبات کو بھڑکا کر ٹریڈ یونین کے لوگ لیڈری حاصل کر لیں اور پھر پورے ترقیاتی عمل پر روک لگا دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues