Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

ایک صاحب سے ہندوستان کے معاشی حالات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سب سے بڑا مسئلہ غریبی کا مسئلہ ہے۔ جو پولیٹکل پارٹی غریبی کا خاتمہ (eradication of poverty) کا ایشو لے کر اٹھے گی وہ کامیاب ہوگی۔

میں نے کہا کہ انڈیا میں ایک طبقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ انڈیا میں جو غربت ہے وہ ’’سرمایہ دارانہ نظام‘‘ کی بنا پر ہے جس کو پچھلے کچھ سالوں سے اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ درست نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کا اصل مسئلہ کرپشن ہے۔ ہندوستان میں غریبی کو ختم کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ کرپشن کا خاتمہ (eradication of corruption) ہے نہ کہ ایریڈیکیشن آف پاورٹی (eradication of poverty)۔ ہندوستان میں کرپشن اتنا بڑھ چکا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت بڑی بڑی رقمیں غریبوں کے نام پر جاری کی جاتی ہیں۔ مگر اس کا بیشتر حصہ بیچ کے لوگ مختلف طریقوں سے لے لیتے ہیں اور عوام بدستور غریبی میں پڑے رہتے ہیں۔ موجودہ حالت میں ہندوستان میں خواہ ایک گروہ کی حکومت ہو یا دوسرے گروہ کی حکومت، عملاً یہی ہوگا کہ غریبی کے نام پر بجٹ بنے گا مگر وہ امیروں کی جیب میں چلا جائے گا۔

میں نے کہا کہ میرے نزدیک ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نظریہ ہی غلط ہے۔ غریبی خود اپنے عمل سے ختم ہوتی ہے نہ کہ حکومت کی سرپرستی سے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کی آزادی ہوتا کہ مسابقت کا ماحول قائم ہو۔ مسابقت کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ حکومت کو اصولی طور پر صرف دو کام کرنا چاہئیے۔ ایک ہے، کرپشن فری انتظامیہ اور دوسرے، پورے ملک میں عمدہ انفراسٹرکچر۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے ایک عربی مقالہ کا ذکر کیا۔ اس کے لکھنے والے ایک عرب عالم تھے ۔ اس مقالہ کا عنوان یہ تھا: لماذا تأخرنا وتقدم غيرنا (ہم کیوں پیچھے ہوگئے اور ہمارے غیر کیوں ہم سے آگے بڑھ گئے) اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہی سوال ۷۵ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے کیا تھا اور اس کا جواب بھی دیا تھا۔ انھوں نے اس مقصد کے تحت ایک کتاب شائع کی تھی جس کا عنوان یہ تھا: لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page