Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

(کیوں مسلمان پیچھے ہو گئے اور ان کے غیر کیوں ان سے آگے بڑھ گئے )

میں نے کہا کہ ۷۵ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے اس سوال کا ایک جواب دیا تھا۔ ٹھیک یہی جواب اس زمانہ کے تقریباً علماء نے دیا۔ اور وہ جواب یہ تھا کہ مسلمان دوبارہ عروج کی حالت تک پہنچنے کے لئے جہاد کریں۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب میں مسلمانوں کو جہاد کے لئے ابھارتے ہوئے ایک عربی شاعر کا شعر نقل کیا تھا کہ میں زندہ رہنے کے لئے (میدانِ جنگ سے ) پیچھے رہا لیکن اس میں میں نے اپنے نفس کے لئے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لئے ہے۔

تاخرت استبقی الحیاة فلم اجد لنفسی حیاة مثل ان اتقدما واقعات بتاتے ہیں کہ اس مشورہ کو مسلمانوں نے پوری طرح قبول کیا اور ساری دنیا میں جگہ جگہ مسلح جہاد شروع ہو گیا۔ اس جہاد کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مگر بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے با وجود اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ ناکام تجربہ بتاتا ہے کہ یہ مشورہ سراسر غلط تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ اسی قدیم مشورہ کو بار بار دہرارہے ہیں۔ مثلاً ایک عربی مجلّہ میں حال میں ایک عرب عالم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے : الجهاد هو الحل الوحید ( جہاد ہی واحد حل ہے ) حالاں کہ اب لوگوں کو یہ لکھنا اور بولنا چاہئے کہ ہمارا جہاد تو نا کام ہو گیا۔ اب مقصد کے حصول کے لئے دوسری کون سی تدبیر کی جائے۔

دبئی میں قیام کے دوران کراچی سے ایک خاتون کا خط موصول ہوا۔ اس خط پر ۶ مئی ۲۰۰۴ کی تاریخ درج تھی۔ یہ خط ایک صاحب دستی طور پر لے آئے تھے جو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز دبئی پہنچے تھے۔ اس خط کا ایک حصہ یہ تھا :

آپ کی تحریروں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ خصوصاً پیغمبر انقلاب اور ڈائری پڑھ کر میری سوچ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔ آپ دعا کیجیے کہ میری سوچ کی تبدیلیاں میرے عمل میں بھی ڈھل جائیں۔ آپ کی کتاب پیغمبر انقلاب پڑھ کر میں نے تاریخ کو ایک بالکل نئے پہلو سے جانا۔ ہر

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page