ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
نئے موضوع پر چونک اُٹھتی تھی اور سوچنے پر مجبور ہوتی تھی کہ کیا ہم کبھی صحابہ کی طرح ایمان لا سکتے ہیں۔ کیا کبھی ان جیسا عمل کر سکتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ پھر آپ ہی کی تحریر میں مجھے جواب مل گیا کہ صحابہ نے اسلام کو شعور کی سطح پر لیا تھا۔ اس دن سے کوشش کر رہی ہوں کہ میں بھی اسلام کو شعور کی سطح پر لوں۔ (عصمت، کراچی)
حقیقت یہ ہے کہ صحابہ معجزہ نہیں، وہ ہمارے لیے اُسو ہ ہیں۔ صحابہ کی حیثیت نا قابل تقلید شخصیت کی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحاب رسول کو ہمیں اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔
پروفیسر محمد ادریس زبیر (۲۸ سال) انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں استاد تھے۔ پھر انھوں نے اس سے استعفا دے کر دعوت کا کام شروع کیا۔ وہ کامیابی کے ساتھ اس کو چلا رہے ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے تربیت اولاد کے معاملہ میں ماں کی اہمیت کو بتاتے ہوئے یہ عربی شعر پڑھا— ماں ایک مدرسہ ہے۔ اگر تم نے ماں کو تیار کر دیا تو تم نے ایک بہترین نسل تیار کر دی: الأم مدرسة إن اعددتها أعددت شعبا طيب الأعراق پروفیسر ادریس صاحب نے کراچی میں مسلم لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ادارہ (الہدیٰ انٹر نیشنل) قائم کیا ہے۔ اس ادارہ کے تحت وہ گویا مستقبل کی ماؤں کو تیار کر رہے ہیں۔ یہ یقیناً ایک دور رس تعلیمی منصوبہ ہے۔ مسلم خواتین کو تعلیم یافتہ بنانا ایک عظیم کام ہے۔ پوری مسلم دنیا میں اس کام کی شدید ضرورت ہے۔
بعض اسباب سے موجودہ زمانہ میں ایسا ہوا کہ مسلم خواتین تعلیم میں پچھڑ گئیں۔ حالاں کہ تعلیم ہر مسلم مرد اور مسلم عورت کے لئے ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق نہ صرف مرد سے ہے اور نہ صرف عورت سے بلکہ اس کا تعلق انسان سے ہے۔ وہ دونوں ہی صنفوں کے لئے یکساں طور پر ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں عورت اور اسلام کے موضوع پر کثرت سے ہر زبان میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر جہاں تک میرا تجربہ ہے، ان کتابوں میں عورت کے تعمیری کردار کو بہت کم نمایاں کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues