Al-Risala · September 2004 · page

ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

زیادہ تر دوسرے پہلو مصنفین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے مجھے اس ضرورت کا احساس تھا چنانچہ میں نے اس موضوع پر ایک جامع کتاب تیار کی ہے۔ اس کتاب کا نام ”عورت معمار انسانیت“ ہے۔ یہ کتاب اس وقت زیرِ طبع ہے۔ وہ تقریباً ۲۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں عورت کے مثبت رول کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ ہندوستان کی ہندو ایکسٹریمسٹ پارٹی بی جے پی کو سپورٹ کرتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صد فی صد غلط ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ دیں۔ اس معاملہ میں میری جو رائے ہے اس کا تعلق انتخابی پالیسی سے ہے نہ کہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے یا ووٹ نہ دینے سے۔

میں نے کہا کہ حال میں ۴ مئی ۲۰۰۴ کو نئی دہلی کے جین ٹی وی کے اسٹوڈیو میں ڈسکشن کا ایک پروگرام تھا۔ ڈسکشن کے اس پروگرام میں اینکر کے علاوہ دو آدمی شریک تھے۔ ایک میں، اور دوسرے کانگریس پارٹی کے سینیر لیڈر سید جعفر شریف۔ اس ڈسکشن کا موضوع تھا ”مئی ۲۰۰۴ کا الیکشن اور مسلمان“ اس موقع پر میں نے صاف لفظوں میں کہا کہ میں کسی سیاسی پارٹی کا ایڈوکیٹ نہیں ہوں۔ میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ مسلمان کس کو ووٹ دیں اور کس کو ووٹ نہ دیں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ مسلمان نگیٹیو ووٹنگ (negative voting) کا طریقہ ختم کر دیں۔ اس کے بجائے وہ پازیٹیو ووٹنگ (positive voting) کا طریقہ اختیار کریں۔ ہندوستان ایک ڈیموکریسی ہے۔ یہ طریقہ ڈیموکریٹک اسپرٹ کے خلاف ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو پرو مسلم اور اینٹی مسلم کے خانوں میں بانٹا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پارٹی انسان پارٹی ہے۔ مسلمان ایک داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس طرح وہ معتدل ماحول قائم رہتا ہے جس میں دعوت کا کام مؤثر طور پر کیا جا سکے۔ اس معاملہ میں میری جو رائے ہے وہ دعوتی نقطۂ نظر سے ہے نہ کہ انتخابی نقطۂ نظر سے۔ میرا اصل کنسرن دعوت ہے نہ کہ کوئی پالیٹکل پارٹی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page