Al-Risala · September 2004 · page

‘‘The most things in life are not things.’’

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

ریاست عجمان کی رولنگ فیملی کے ایک اہم ممبر عبد العزیز بن علی بن راشد نعیمی سے ملاقات ہوئی ۔ وہ عجمان مؤسسۃ بن علی بن راشد کے مدیر عام بھی ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر طیب علی ابوسن بھی تھے ۔ وہ مذکورہ مؤسسۃ میں مستشار ثقافی ہیں۔ ان لوگوں سے تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی ۔ دونوں عربی کے علاوہ انگریزی زبان بھی اچھی طرح جانتے تھے۔

انھوں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ الشارقۃ (شارجہ) کے سلطان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے تاریخ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ انہوں نے سلطان کے دو نصیحت آمیز قول بتائے (1) زندگی میں اکثر چیزیں وہ ہیں جو کوئی چیز ہی نہیں (۲) اپنے دشمن پر قابو پانے والا چھوٹا ہیرو ہے، اور اپنے آپ پر قابو پانے والا بڑا ہیرو ہے۔

‘‘The most things in life are not things.’’

‘‘Small heroes can master their enemies, but big heroes can master themselves’’ ان لوگوں سے گفتگو کے بعد میرا تاثر یہ تھا کہ آج کل عربوں میں تعلیم کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حسن البناء اور سید قطب کے زمانہ میں جو عرب رہنما اٹھے ان سب نے جہاد کی باتیں کیں ۔ لیکن اب لمبے نا کام تجربہ کے بعد عربوں نے یہ سمجھ لیا کہ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ اب عربوں کا ذہن تیزی سے جہاد علمی کی طرف آ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ صرف ایک نسل میں صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ جو عرب حسن البناء اور سید قطب کو مثالی رہنما سمجھتے تھے، وہ انہیں اجتہادی خطا کا کیس قرار دے کر فراموش ماضی کے خانہ میں ڈال دیں گے۔ اور پر امن جد و جہد کے اصول پر اپنے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ بنائیں گے۔

مقامی انگریزی روز نامہ گلف نیوز (Gulf News) کا شمارہ ۹ مئی ۲۰۰۴ دیکھا۔ اخبار کے پہلے صفحہ پر عراق کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا — الصدر کے آدمی جنگ کو توسیع دے رہے ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page