‘‘The most things in life are not things.’’
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقتدی الصد ر کی ملیشیا اور المہدی آرمی عراق میں مقیم امریکا اور برطانیہ کے فوجیوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں اور ان کو سخت نقصان پہنچارہے ہیں۔ ایک سال پہلے یکم مئی ۲۰۰۳ کو امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ عراق میں ہمارا فوجی مشن مکمل ہو گیا ہے۔ مگر اس کے بعد سے اب تک مسلسل تقریباً ہر دن امریکی اور برطانوی سپاہی مارے جارہے ہیں۔ ابھی تک عراق کا معاملہ امریکا کے کنٹرول میں نہ آسکا۔
عراق ہمیشہ سے ایک سرکش ملک کی حیثیت سے جانا جاتا رہا۔ عراقی لوگ مشکل ہی سے کسی کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ عربی میں یہ مثل ہے کہ العراق لا یطاق ، یعنی عراق کو قابو میں نہیں لایا جاسکتا۔ عراق کی موجودہ صورت حال غالباً عراق کے بارے میں اسی قدیم مثل کی ایک مزید تصدیق ہے۔ اسی انگریزی اخبار کے صفحہ ۹ پر ایک کالم اوپینین (Opinion) کے عنوان کے تحت تھا۔ اس میں چند شہریوں کی رائے شائع کی گئی تھی۔ ڈاکٹر انور ایم گرگیش (Anwar M Gargash) کی تحریر اس عنوان کے تحت چھپی تھی ۔ تشدد کا چیلنج (The Challenge of Violence) اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے دو سال کے اندر سعودی عرب سے لے کر اردن تک مسلمانوں کے اندر تشدد کی ذہنیت پھیلی ہے۔ یہ ایک بری علامت ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو روکنے کی تدبیر کی جائے۔ آخر میں موصوف نے لکھا تھا کہ ضروری ہے کہ موجودہ تشدد کی لہر سے سختی کے ساتھ نپٹا جائے۔ طویل المیعاد کے اعتبار سے صرف سیکورٹی جیسی کارروائی مؤثر ثابت نہ ہوگی:
While the current spate of terrorism must be dealt with firmly, in the long term a purely security centred response is not enough and will not work. مگر اس تحریر میں یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ سیکورٹی کے اقدامات کے علاوہ اس مسئلہ کے حل کے لئے اور کیا کیا جانا چاہئے ۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا مستقل حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے تعمیری خطوط پر جدید مسلم نسلوں کی ذہن سازی ۔ تاہم یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues