Al-Risala · September 2004 · page 41

‘‘The most things in life are not things.’’

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱

صرف امن کی اپیل کافی نہیں ہوسکتی۔ اصل یہ ہے کہ ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کی دشمن ہو چکی ہیں۔ وہ مسلسل طور پر مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ خود مسلم ملکوں کا حکمراں طبقہ اس سازش کا شکار ہو چکا ہے اور یہ کہ اس مسئلہ کا واحد حل مسلح جہاد ہے۔ اس قسم کی باتیں موجودہ زمانہ میں اتنی کثرت سے کہی گئی ہیں کہ تقریباً تمام مسلمانوں کے ذہن منفی سوچ سے بھر گئے ہیں۔ موجودہ تشدد اس کی ایک علامت ہے۔ ایسی حالت میں مؤثر نقطہ آغاز کے لئے ضروری ہے کہ کھلے طور پر یہ اعلان کیا جائے کہ پچھلے مقررین اور محررین نے اس معاملہ میں جو کچھ کہا وہ غلط تھا۔ وہ وقتی ردعمل کی پیداوار تھا نہ کہ قرآن وسنت کے مثبت مطالعہ کا نتیجہ۔ نفی کے بغیر اثبات کا حصول ممکن نہیں۔

ایک صاحب کی ڈائری میں میں نے یہ الفاظ لکھے ــــ دشمن سے برا سلوک کرنا دشمن کی دشمنی کو بڑھاتا ہے اور دشمن سے اچھا سلوک کرنا دشمن کی دشمنی کو ختم کر دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا یہ نظریہ بظاہر اچھا لگتا ہے، مگر اس نظریہ کی بنیاد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ دراصل فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اس اصول کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجده ۳۴) اصل یہ ہے کہ کوئی بھی آدمی پیدائش کے اعتبار سے مسٹر دشمن نہیں۔ پیدائشی طور پر ہر آدمی مسٹر دوست، ہی ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو دوسرے آدمی کے اندر ہے۔ دشمنی دراصل ایک اوپری چیز ہے جو وقتی جذبہ کے تحت کسی کے دل میں مصنوعی طور پر آ جاتی ہے۔ دوسرا فریق اگر ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ یک طرفہ طور پر نرمی اور حسن سلوک کا انداز اختیار کرے تو دشمن کا ظاہری پردہ ہٹ جائے گا اور اصل فطرت سامنے آ جائے گی جو ہر ایک کے لئے دوست ہے، وہ کسی کے لئے دشمن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page