‘‘The most things in life are not things.’’
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
ابوظبی اس مجموعہ کی سب سے زیادہ دولت مند ریاست ہے۔ اس کا رقبہ سب سے زیادہ ہے۔ وہ امارات کے نیشنل بجٹ کا ۹۰ فی صد حصہ ادا کرتا ہے۔ اس علاقہ میں تیل کی دریافت ۱۹۵۸ میں ہوئی۔ ابوظبی میں آب پاشی کا نظام قائم کر کے بڑے پیمانے پر زراعت اور باغبانی کا کام ہو رہا ہے۔ ابوظبی میں ۱۹۸۲ میں ریفائنری (تیل صاف کرنے کے کارخانے) کا قیام عمل میں آیا۔ متحدہ عرب امارات میں ریلوے لائن نہیں ہے۔ مگر سڑکوں کا نظام اتنا عمدہ ہے کہ اس معاملہ میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔
عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ ۱۰ مئی ۲۰۰۴ (۲۱ ربیع الاول ۱۴۲۵ھ) میں صفحہ اول پر قاہرہ کی المجلس الاعلی للشؤن الاسلامیہ کے سالانہ ثقافتی اجتماع کی رپورٹ چھپی تھی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے شیخ الازہر ڈاکٹر سید محمد طنطاوی نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فلسطین میں اس وقت جو مسلح جدوجہد ہو رہی ہے وہ اسلامی جہاد ہے، وہ دہشت گردی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد دہشت گردی نہیں ہے جیسا کہ اسلام کے دشمن اس کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ کیوں کہ دہشت گردی زیادتی ہے اور شرعاً ممنوع ہے۔ خواہ اس کا جو بھی مصدر ہو۔ ان الجهاد ليس ارهابـا كما يحاول تصويره اعداء الاسلام، فالارهاب عدوان مرفوض شرعاً أيّـا كان مصدره۔
میرا تجربہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد عرب علماء جہاد کے معاملہ میں سخت کنفیوزن کا شکار ہو گئے ہیں۔ مثلاً وہ انفرادی جہاد اور اجتماعی جہاد کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر انفرادی حملہ ہو تو اس کو اپنے ذاتی دفاع میں جوابی کارروائی کرنے کا پورا حق ہے۔ اگر وہ اس جوابی کارروائی میں مارا جائے تو وہ شہید قرار پائے گا۔ مشہور حدیث من قتل دون مالـه فهو شہید کا تعلق اسی انفرادی صورت حال سے ہے۔
دوسری صورت وہ ہے جب کہ مسلمانوں کے کسی ملک پر دوسرا ملک حملہ کرے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے اجتماعی جہاد کا حق ہو جائے گا۔ مگر یہ اجتماعی جہاد صرف مسلم حکومت کا حق ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues