Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

کوئی شخص اگر مادی دنیا کو چھوڑ دے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی طالب علم امتحان ہال کو چھوڑ کر باہر چلا جائے۔ ایسے طالب علم کو کامیاب قرار نبیس دیا جاسکتا۔ کیوں کہ طالب علم کے لیے اپنی کامیابی کا ثبوت امتحان ہال کے اندر دینا ہے، نہ کہ امتحان ہال کے باہر۔

سوال

میں تقریباً ہیں سال سے الرسالہ کا قاری تھا۔ میں اس کو بہت پسند کرتا تھا اور اپنے دوستوں کو پڑھواتا تھا۔ مگر اب میں نے الرسالہ کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حال میں اردو اخبارات میں میں نے آپ کے بارے میں کچھ مضامین پڑھے۔ ان مضامین اور رپورٹوں میں آپ کے بارہ میں ایسی باتیں بتائی گئی تھیں جو درست نہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں، آپ پردہ کو ضروری نہیں سمجھتے، وغیرہ۔ آپ کو میں نے کئی خط لکھے مگر آپ کا عجیب حال ہے کہ آپ لمبے خط کا جواب چند سطروں میں دیتے ہیں۔ اگر کئی سوال ہیں تو آپ ایک شاطرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ یعنی کمزور اعتراض کا جواب دینا اور طاقتور اعتراض کو چھوڑ دینا۔ آپ کے اخلاص پر مجھ کو شک ہو گیا ہے۔ آپ کی نیت مشتبہ نظر آتی ہے۔ آپ دین کے نام پر دنیا کمانا چاہتے ہیں۔ مجھے امید نہیں ہے کہ آپ میری ان باتوں کا جواب دیں گے۔ مگر الرسالہ کو پڑھنا تو میں نے بند کر دیا ہے۔ (ایک قاری، الرسالہ) جواب اس طرح کے کئی خط ہم کو ملے ہیں۔ یہ ایک خطرناک علامت ہے۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ مگر قرآن کے الفاظ میں، اختلاف خواہ کتنا ہی شدید ہو آدمی کو عدل سے ہرگز نہیں ہٹنا چاہیے اور اختلاف کے معاملہ میں عدل یہ ہے کہ صرف ثابت شدہ بات پر تنقید کی جائے۔ ناقد جب تک کامل تحقیق کے بغیر پوری بات نہ جان لے اس کو ہرگز تنقید نہیں کرنی چاہیے۔

مثلاً اخباری مضامین اور رپورٹوں کی بنیاد پر میرے خلاف رائے قائم کرنا سراسر عدل کے خلاف ہے۔ میرے بارے میں کوئی رائے میری خود اپنی تحریروں کی بنیاد پر قائم کرنا چاہیے نہ کہ اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر۔ کیوں کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اخبارات عام طور پر کسی کی بات کو بگڑی ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page