سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً اخبارات اور میڈیا عام طور پر یہ بتاتے ہیں کہ مدرسہ اور مسجد متشددانہ تعلیم کا مرکز ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں۔ کوئی بھی شخص جو میرے بارے میں اخبار کی بنیاد پر رائے قائم کرے وہ بلاشبہ عدل کے راستہ سے ہٹ گیا اور غیر عادلانہ تنقید خود ناقد کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ناقد کو صرف خارجی معلومات کی بنیاد پر علمی تجزیہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی حال میں کسی ناقد کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیر تنقید شخص کی نیت پر حملہ کرنے لگے۔ حدیث میں منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ إذا خاصم فجر (جب مخاصمت ہو تو وہ تجاوز کرنے لگے)۔ اس کے مطابق، یہ منافقت کی ایک پہچان ہے کہ کسی مسئلہ پر اختلاف ہو تو آدمی علمی دلیل کی حد پر نہ ٹھہرے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر تنقید شخص کی نیت اور اخلاص پر حملہ کرنے لگے۔ اس قسم کا فعل زیر تنقید شخص سے زیادہ خود ناقد کو ایکسپو ز کرتا ہے۔ علمی تنقید بلاشبہ ایک جائز فعل ہے، مگر تنقیص اور کردار کشی بلاشبہ حرام ہے۔ سوال آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بی جے پی اور آرایس ایس سے آپ کے گہرے سمبندھ ہیں۔ اس کے ثبوت میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپ بی جے پی اور آرایس ایس کے جلسوں میں اکثر شرکت کرتے ہیں۔ جب کہ آپ کانگریس سے دور رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ بی جے پی ایک تنگ نظر جماعت ہے اور کانگریس اُداروادی جماعت ۔ آپ کے بارے میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے۔ براہ کرم اس کا جواب دیں (رجت ملہوترا، نئی دہلی) جواب میرے بارے میں یہ بات جو کہی جاتی ہے وہ سرتا سر بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ انڈیا کی ۱۴ ویں لوک سبھا کا فائنل رزلٹ ۱۳ مئی ۲۰۰۴ کو آیا ہے۔ اس سے پہلے ۴ مئی ۲۰۰۴ کو نئی دہلی کے جین ٹی وی کے اسٹوڈیو میں ایک ڈسکشن تھا جس میں میرے سوا کانگریس کے سینئر لیڈر سی کے سید جعفر شریف تھے۔ اس موقع پر میں نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے صاف طور پر کہا تھا کہ میں کسی پولیٹکل پارٹی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues