سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
کا ایڈوکیٹ نہیں۔ میں اصلاً ایک داعی ہوں۔ میری پالیسی یہ ہے کہ کوئی بھی گروہ یا پارٹی مجھے اپنے جلسہ میں بلائے میں وہاں شرکت کرتا ہوں اور حسب موقع اپنی مثبت بات وہاں رکھتا ہوں۔ اگر آپ الرسالہ میں خبر نامہ اور سفر نامہ کے صفحات دیکھیں تو آپ اس میں اس کی تصدیق پا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اردو ماہنامہ الرسالہ مارچ ۱۹۹۷ (شمارہ نمبر ۲۴۴) کو لیجئے ۔ اس میں آپ دیکھیں گے کہ میں نے شملہ میں ہونے والے ایک سیمینار میں باقاعدہ شرکت کی۔ یہ سیمینار ۵۔ ۶ جولائی ۱۹۹۴ کو اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ کی طرف سے ہوا تھا۔ اس کی کارروائیاں شملہ کے راشٹرپتی نواس (قدیم وائس ریگل لاج) میں انجام پائیں۔ اس سیمینار کا موضوع یہ تھا: Redefining the good society. اس سیمینار میں کانگریس کے بڑے بڑے لیڈر شریک تھے۔ مثلاً سونیا گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ، ارجن سنگھ، نٹور سنگھ وغیرہ۔ ۶ جولائی کی نشست میں مجھ کو اس کا صدر بنایا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں حق کا داعی ہوں۔ داعی دو چیزوں کو آفورڈ (afford) نہیں کر سکتا۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مدعو سے کوئی مادی انٹرسٹ وابستہ کرے۔ خدا کے فضل سے میں ہمیشہ اس پر قائم رہا ہوں۔ اخباروں میں یہ بات آچکی ہے کہ پچھلی حکومت کے زمانہ میں مجھ کو گورنر کا عہدہ پیش کیا گیا مگر میں نے اس کو لینے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح مجھے راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا مگر میں نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔
دوسری چیز جس کو داعی افورڈ نہیں کر سکتا وہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو اپنے اور غیر میں بانٹے ۔ وہ اپنے خیر خواہانہ جذبہ کے تحت مجبور ہے کہ ہر ایک کو یکساں طور پر انسان سمجھے، وہ یکساں طور پر ہر ایک کی فلاح کا خواہشمند ہو۔ خدا کا فضل ہے کہ اس معاملہ میں بھی میرا مسلک اسی اصول کے مطابق ہے۔ چنانچہ اپنی چالیس سالہ دعوتی زندگی میں میں ہر جماعت اور ہر گروہ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے ان کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہوں۔ ۲۹ نومبر ۱۹۵۹ کو میں نے آریہ سماج کے ایک جلسہ میں شرکت کی تھی جو بجنور (سیوہارہ) میں ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے جو تقریر کی تھی وہ اسی زمانہ میں اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues