سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
کا تعارف کے نام سے چھپی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے اور بڑے جلسوں میں شریک رہا ہوں ۔ یہ جلسے ہر مذہب اور ہر پارٹی اور ہر گروہ کی طرف سے ہوتے رہے ہیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کا چھپا ہوا ریکارڈ موجود ہے اور اب بھی ان کو الجمعیۃ ویکلی اور الرسالہ منتھلی کے صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
سوال
دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں، اُمید کہ آپ جواب دیں گے۔ ایک سوال یہ ہے کہ ثواب کیا چیز ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ قرآن شریف کے معنی نہ سمجھنے کے باوجود صرف تلاوت سے ثواب ملتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ داڑھی رکھنے کا رواج عربوں میں کب سے ہوا۔ کیا اسلام سے پہلے لوگ داڑھی نہیں رکھتے تھے۔ داڑھی سنت رسول ہے یا یہ عادت انسانی کے قبیل سے ہے۔ (احساس آفاقی، بمبئی)
جواب
ثواب کوئی پراسرار (mysterious) چیز نہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک معلوم چیز کا نام ہے۔ ثواب کے لفظی معنی بدلہ کے ہوتے ہیں۔ اعمال کے ثواب کا مطلب یہ ہے کہ کسی عمل کا مطلوب نتیجہ انسان کو ملے ۔ اسلام میں زندگی کے جو طریقے بتائے گئے ہیں ان کو شعور کے ساتھ اپنانے سے انسان کی شخصیت میں ایک مثبت تبدیلی آتی ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا انعام جنت کی صورت میں ملتا ہے۔ اس لیے اس کو ثواب کہا جاتا ہے۔
داڑھی رکھنا فرض نہیں ہے مگر وہ یقینی طور پر سنت ہے۔ سنت ہونے کی وجہ سے داڑھی کی اہمیت کم نہیں ہوتی ۔ فرض اور سنت کی تقسیم نظری اعتبار سے کسی عمل کا قانونی درجہ متعین کرنے کے لیے ہے۔ مگر جہاں تک عملی اہمیت کی بات ہے تو عملی اعتبار سے سنت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ فرض۔ حقیقت یہ ہے کہ داڑھی اس سنجیدگی اور اخلاص کی علامت ہے جو ایمان کے بعد آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ کسی چیز کی علامت اگر چہ ایک ظاہری چیز ہے مگر اس اعتبار سے اس کی بے حد اہمیت ہے کہ وہ بتاتی ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues