Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

اندرونی حقیقت آدمی کے اندر موجود ہے یا نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، ہر عمل جس کی تعلیم اسلام میں دی گئی ہے وہ اسی وقت اسلامی عمل ہے جب کہ وہ اخلاص کے ساتھ ہو۔ اگر وہ عمل ریاء یعنی دکھاوا کے لیے ہو تو ایسے عمل کی کوئی قیمت نہیں اور داڑھی بھی بلاشبہ اس حکم عام سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

سوال

امریکا میں ہماری دوستی ہندو، عیسائی، بہائی یعنی مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہے۔ اگر کسی ہندو یا عیسائی کے گھر میں کوئی فرد مر جائے تو بحیثیت مسلمان کس طرح تعزیت کرنی چاہیے۔ امید ہے، آپ تفصیل سے جواب دیں گے۔ (ریاض احمد خاں، امریکا)

جواب

عیادت یا غیر مسلم کی تعزیت کا مسئلہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سماجی مسئلہ ہے۔ اس کو عرف کے مطابق انجام دینا چاہیے۔ یعنی اس معاملہ میں سماج کے اندر جو طریقہ انسانی شرافت کا طریقہ سمجھا جاتا ہو اس کے مطابق ہمیں بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر ملی شناخت کا مسئلہ بنانا درست نہیں۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک بار رسول اللہ نے دیکھا کہ سامنے سے ایک یہودی کا جنازہ گزر رہا ہے۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ کھڑے ہو گئے ۔ یہ سماجی عرف کا ایک معاملہ تھا۔ چونکہ عرف عام میں یہ طریقہ تھا کہ لوگ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ اس لیے آپ بھی کھڑے ہو گئے۔ حالانکہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا نہ کہ کسی مسلمان کا جنازہ۔

سوال

الرساله مئی ۲۰۰۴ میں آپ سے حبیب اشرف صاحب نے سوال پوچھا تھا کہ آپ کی تصنیف تذکیر القرآن کا اجتماعی طور پر ہم مطالعہ کر رہے ہیں، لیکن تبلیغی جماعت کے حضرات روک رہے ہیں اور

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page