سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
وہ فضائلِ اعمال کا مطالعہ کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ آپ نے جواب میں فضائل اعمال کی کتاب کو کہانیوں کی کتاب کہا ہے مگر اسی میں رسول اللہ کی حدیثیں بھی ہیں۔ آپ کا ایسا کہنا غلط ہے۔ فضائل اعمال کا مطالعہ کرنے والے حضرات کو آپ نے زوال یافتہ قوم کہا ہے۔ میں آپ کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب تفصیل سے دیں (وحید الدین شیخ ، مہاراشٹر) جواب میں تبلیغی جماعت کا قدرداں ہوں۔ الرسالہ میں بار بار ایسے مضامین چھپے ہیں اور چھپتے رہتے ہیں جن میں تبلیغی جماعت کا اعتراف پایا جاتا ہے۔ تاہم پیغمبر کے سوا کوئی بھی فرد یا جماعت ایسا نہیں جس میں صد فی صد خوبیاں ہوں اور کوئی کمی اس میں موجود نہ ہو۔
خود تبلیغی جماعت والوں کی روش اس کا ثبوت ہیں۔ مثلاً تبلیغی جماعت کے لوگ علماء کا اعتراف کرتے ہیں مگر وہ تبلیغی جماعت کے باہر کسی عالم کو کبھی اپنے اسٹیج پر بولنے کا موقع نہیں دیتے۔ تبلیغی جماعت کے لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں مگر وہ اس کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے اجتماعات میں کسی مفسر کا ترجمہ پڑھ کر سنایا جائے۔ تبلیغی جماعت کے لوگ میری قدر کرتے ہیں اور میری تحریروں کو ذاتی طور پر پڑھتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ میری تفسیر تذکیر القرآن کو پڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ پھر جو روش تبلیغی جماعت والوں کے لیے جائز ہے وہی روش دوسروں کے لیے جائز کیوں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فرد یا جماعت پیغمبر والا کام نہیں کر سکتا۔ پیغمبر کے بعد جو بھی دینی کام کیا جائے گا اس میں کچھ نہ کچھ کمیاں رہیں گی۔ اس لیے نہ تو کسی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا مشن مکمل معنوں میں پیغمبرانہ مشن ہے اور نہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس سے کوئی اختلاف کیا جائے کہ وہ اُس پر سوچے بغیر فوراََ برہم ہو جائے۔
سوال
ایک بات اس وقت یہ معلوم کرنی ہے کہ بی جے پی کی حمایت کھلے عام کرنے میں کیا مصلحت تھی اور کیا چیزیں آپ کے ذہن میں تھیں ۔ تفصیل سے لکھیں تو ہم سب کا انشراح صدر ہو جائے ۔ ورنہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues