Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

آپ کے نظریات کے بارے میں ایک طرح کی کھٹک جو بہت سوں کے اندر پیدا ہوگئی ہے، باقی رہ جائے گی۔ (نیاز احمد، بنگلور)

جواب

آپ نے میرے بارہ میں بی جے پی کی حمایت کی جو بات کہی ہے وہ آپ کو کہاں سے معلوم ہوئی۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کو اس سلسلہ میں الرسالہ کے صفحات سے کوئی حوالہ دینا چاہیے۔ جب ہم ایک مشن چلا رہے ہیں اور اُس کے ترجمان کے طور پر ماہنامہ الرسالہ ۱۹۷۶ سے مسلسل جاری ہے تو آپ کو ہمارے خیالات کا علم الرسالہ کے مضامین سے حاصل کرنا چاہیے، نہ کہ سنی ہوئی باتوں یا اخباروں سے۔ اگر آپ پابندی کے ساتھ الرسالہ پڑھتے ہیں تو یقیناً آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ الرسالہ کے صفحات میں کبھی وہ چیز شائع نہیں کی گئی جس کو آپ بی جے پی کی حمایت کہتے ہیں۔

یہ ایک معلوم بات ہے کہ اخباروں میں اکثر ہر ایک کے بارہ میں الٹی باتیں چھپتی رہتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان ملک کے غدار ہیں۔ دینی مدارس دہشت گردی کی تعلیم دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی ایجنٹ ہے۔ تبلیغی جماعت خفیہ عسکری اڈے چلا رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ آپ یا دوسرے حضرات اخباروں میں اس قسم کی چیزیں پڑھ کر فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے۔ اسی طرح بی جے پی کی حمایت والی بات جب ماہنامہ الرسالہ میں موجود نہیں تو اخباروں میں پڑھ کر یہاں بھی آپ کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ: سبحنك ما هذا الا بهتان عظيم۔

واضح ہو کہ اخبار کے حوالہ سے میری طرف جو بات منسوب کی جارہی ہے وہ خود بھی درست نہیں۔ مثلاً نئی دہلی کے روزنامہ راشٹریہ سہارا میں اس معاملہ کی جورپورٹ چھپی ہے اُس میں یہ جملہ موجود ہے: البتہ مولانا نے واضح لفظوں میں بی جے پی کی حمایت سے انکار کیا۔ (راشٹریہ سہارا، ۲۶ مارچ ۲۰۰۲) سوال میں نے اپنے ایک عزیز سے سنا ہے کہ آپ نے الیکشن کی مہم میں وزیر اعظم واجپئی جی کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page