Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

ساتھ شاید یوپی کا دورہ کیا۔ کیا یہ بات سچ ہے۔ آپ نے گورنری کا عہدہ بھی تسلیم نہیں کیا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ آپ نے کن وجوہات پر ساتھ دیا۔ مہربانی کر کے تفصیل سے مجھے اس بارے میں الرسالہ کے ذریعہ سمجھائیے۔ (غلام رسول، سری نگر)

جواب

آپ کے عزیز نے جو بات آپ سے کہی وہ بلاشبہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ میں نے ہرگز کسی وزیر اعظم کے ساتھ یوپی یا غیر یوپی کا دورہ نہیں کیا۔ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو یہ ضرور میڈیا میں آتا اور آپ اپنے عزیز کے بتائے بغیر اس کو جان لیتے۔ آپ کو چاہیے تھا کہ اس بات کو سن کر فوراً یہ کہہ دیں کہ یہ جھوٹی بات ہے۔ کیوں کہ اس قسم کے دورے اتنا زیادہ میڈیا میں آتے ہیں کہ ہر آدمی ان کو جان لیتا ہے۔ مزید یہ کہ میرے بارے میں جاننے کے لیے آپ کو یا کسی کو الرسالہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جو بات الرسالہ میں نہ ہو اس کے متعلق پیشگی طور پر یہ مان لینا چاہیے کہ وہ واقعہ ہی نہیں۔ جب آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ مجھے حکومت نے گورنر کا عہدہ دیا لیکن میں نے اس کو قبول نہیں کیا تو آپ کو اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کے عزیز کی بات غلط ہے۔ کیوں کہ کوئی آدمی حکومت نواز اس لیے بنتا ہے کہ وہ اس سے مادی فائدہ حاصل کرے۔ کوئی شخص ایسا دیوانہ نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف اپنے کو بدنام کرنے کے لیے کسی حکومت کا ساتھ دے۔ جب میں نے عہدہ قبول نہیں کیا تو اسی سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ میں حکومت نواز نہیں ہوں۔ کسی حکومت کی طرفداری میرے لیے خارج از بحث ہے۔ آپ کو میرا مشورہ ہے کہ آپ ہر سنی ہوئی بات کو سب سے پہلے اپنے کامن سنس سے جانچیے اور جو چیز کامن سنس پر پوری نہ اترے اس کو تحقیق کے بغیر مان لیجیے کہ وہ غلط ہوگی۔ سوال میں آپ کے الرسالہ کا مطالعہ بہت شوق سے کرتی ہوں۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا مرد اور عورت کے نماز پڑھنے کے طریقے الگ الگ ہیں۔ کچھ حدیثیں اس بات کی تائید کرتی ہیں اور کچھ اس کی مخالفت کرتی ہیں۔ آخر کیا صحیح ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page