سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی جس سے مسلمان برادری کے نام پر فرقہ بنائیں ۔ پھر بھی ہر مسلمان اس سماجی برائی پر بہت اہمیت دیتا ہے۔ وہ اپنے نام کے آگے ولدیت نہ لگا کر caste name لگانا بہتر سمجھتا ہے۔ آخر ہر مسلمان اپنی پہچان caste سے کیوں کرانا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے lower caste کے لوگ احساس کمتری کے شکار رہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آخر اس سماجی برائی کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ آپ یہ بھی بتانے کی مہربانی کریں کہ گھر میں ٹیلی ویژن (T.V) کو رکھنا اور دیکھنا کیسا ہے۔ (غزالہ شاہد، کمال گنج، فرخ آباد)
جواب
۱۔ عورت اور مرد کے لیے نماز پڑھنے کا طریقہ ایک ہے۔ دونوں کے درمیان اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عورت کی نماز کے لیے بعض جزئی فرق جو حدیث میں ملتے ہیں وہ صرف سہولت یا رعایت کی بنا پر ہے نہ کہ مسئلہ میں فرق کی بنا پر۔ نماز میں اصل اہمیت خشوع کی ہے اور خشوع عورت اور مرد دونوں سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ دونوں ہی کو سب سے زیادہ توجہ خشوع پر دینا چاہیے کیوں کہ خشوع کے بغیر نماز، نماز نہیں (لا صلوۃ لمن لم يتخشع)۔
۲۔ ذات کا مسئلہ کوئی دینی معاملہ نہیں، وہ صرف ایک سماجی معاملہ ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں شعوب و قبائل کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ صرف تعارف یا پہچان کے لیے ہے (الحجرات ۱۳) اس قسم کا فرق ایک فطری فرق ہے اور وہ بہر حال باقی رہتا ہے۔ مثلاً مغربی ملکوں میں کوئی اپنے آپ کو خان یا سید نہیں لکھتا مگر وہاں رنگ کے فرق کی بنا پر اس سے بھی زیادہ امتیاز پایا جاتا ہے جو ہندوستان میں نظر آتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک صحیح استعمال ہے اور ایک اس کا غلط استعمال ۔ مذکورہ فرق کو تعارف کے معنی میں لیا جائے تو یہ اس کا صحیح استعمال ہو گا لیکن اگر اس فرق کو امتیاز کے معنی میں لیا جانے لگے تو یہ اس کا غلط استعمال ہو جائے گا۔ غلط استعمال سے بچنے کی صورت یہ نہیں ہے کہ آپ یہ مانگ کریں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues