سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
لوگ اس قسم کے الفاظ کو لکھنا چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امتیاز کا تعلق سوچ سے ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ کو لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ سوچ کو بدلے بغیر ظاہری علامتوں کو ختم کرنے سے اصل برائی ختم ہونے والی نہیں۔
۳۔ ٹیلی ویژن اپنے آپ میں کوئی بری چیز نہیں۔ ٹیلی ویژن دراصل فطرت کی تسخیر کا ایک حصہ ہے۔ خدا نے فطرت کے نظام میں بہت سے امکانات رکھے ہیں۔ انہیں امکانات میں سے ایک امکان کا نام ٹیلی ویژن ہے۔ مثلاً قدیم زمانہ میں جب انسان نے گھوڑے اور اونٹ کو سواری کے لیے استعمال کیا تو یہ بھی فطرت کے قانون کو استعمال کرنے کی ایک صورت تھی۔ پھر جب انسان نے پانی کو اسٹیئم پاور میں تبدیل کیا تو یہ بھی فطرت کے قانون کو استعمال کرنے کی ایک مثال تھی۔ اسی طرح ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو بھی استعمال کرنا فطرت کے قانون کو استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔ یہ صحیح ہے کہ آج کل ٹی وی کو اکثر غلط کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹی وی بذات خود ایک غلط چیز ہے۔ آپ کو ٹی وی کے صحیح استعمال پر زور دینا چاہئے نہ یہ کہ آپ ٹی وی کو بذات خود حرام چیز قرار دیں۔ آج کل تو حال یہ ہے کہ جہاد کو بھی غلط طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ جہاد کو اُس غلط کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کو قرآن میں فساد کرنا اور خون بہانا بتایا گیا ہے۔ مگر اس بنا پر ایسا کرنا درست نہیں کہ خود جہاد کو غلط قرار دیا جائے۔ ہم جہاد کے غلط استعمال کی مذمت کریں گے نہ کہ خود جہاد کو غیر مطلوب بتائیں گے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان کسی بھی چیز کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ ہمیں غلط استعمال کو روکنا چاہیے نہ کہ خود استعمال کو۔ سوال اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان سے السلام علیکم کہتا ہے تو اس کے جواب میں مسلمان کو کیا کہنا چاہیے ۔ براہِ کرم اس کا جواب دیں۔ (خلیل الرحمن، ناگپور)
جواب
کوئی غیر مسلم اگر ملاقات کے وقت آپ کو السلام علیکم کہے تو آپ کو بھی اسے السلام علیکم کہنا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues