سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
چاہیے۔ یہی انسانی اخلاق ہے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت سے واضح رہنمائی ملتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: واذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها (النساء ٨٦) یعنی اور جب کوئی تم کو تحیت و سلام کہے تو تم بھی تحیت و سلام کرو اس سے بہتر یا الٹ کرو ہی کہہ دو۔ قرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ سے جدائی کے وقت اس کو رخصتی سلام کرتے ہوئے کہا کہ تم پر سلامتی ہو (قال سلام عليك) قرآن میں منافق کو فر کے ساتھ بریکیٹ کیا گیا ہے (التوبہ ۷۳)۔ پھر جس طرح منافق کے سلام کا جواب سلام کی صورت میں دینا جائز ہے، اسی طرح غیر مسلم کے سلام کا جواب سلام سے دینا یقینی طور پر جائز ہے۔ یہی اسلام کا عام حکم ہے۔ بعض حدیثوں میں اس سلسلہ میں جو محتاط روش کی تلقین کی گئی ہے وہ صرف بعض معلوم افراد سے متعلق ہے، ان کی حیثیت اس معاملہ میں عمومی حکم کی نہیں۔
سوال
آپ کے اُس بیان پر میں سوال کرتا ہوں جو کہ آپ نے ۲۵ مارچ ۲۰۰۴ کو فکلی آڈیٹوریم ہال، نئی دہلی میں مسٹر اٹل بہاری واجپئی کی حمایت میں منعقد ایک میٹنگ کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔ اس کی روداد دیگر اخباروں کے ساتھ ساتھ قومی تنظیم میں بھی شائع ہوئی۔ ۲۶ مارچ کے قومی تنظیم (پٹنہ) کے مطابق، آپ نے کہا کہ سیاست کا کوئی مذہبی عقیدہ نہیں ہے۔ اس میں حالات کے تحت تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بیان صرف مسلمانوں پر عائد ہوگا یا ہندوستان کے تمام شہریوں پر۔ دوسری بات آپ نے یہ کہی کہ مسلمانوں کو ایک تعمیر پسند اقلیت بن کر رہنا چاہیے ۔ تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان تخریب پسند ہیں۔ تعجب ہوتا ہے آپ کے اس مضحکہ خیز بیان پر۔ کیا آپ اس کی تردید میں ایک لفظ بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ جیسے نامور عالم دین کے منھ سے ایسے الفاظ نکلنے کی امید نہیں تھی ۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور)
جواب
مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو میرے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے میڈیا کی رپورٹوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues