Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

کو بنیاد بناتے ہیں۔ جب کہ میڈیا کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ میڈیا حقیقت کو صحیح صورت میں پیش نہیں کرتا۔ یہی میڈیا عام مسلمانوں کے بارے میں تشدد پسند کمیونٹی کی تصویر پیش کرتا ہے تو تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اس کو جھوٹ بتاتے ہیں۔ لیکن یہی میڈیا جب میرے بارے میں کوئی الٹی بات پیش کرتا ہے تو اس کو آپ جیسے لوگ بالکل درست مان لیتے ہیں۔ یہ تضاد کیوں۔

آپ نے ایک اردو اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے میری مذکورہ تقریر کے بارے میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ’’ مسلمانوں کو ایک تعمیر پسند اقلیت بن کر رہنا چاہیے‘‘۔ ‘‘۔ یہ بات غلط ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں تخلیق کا لفظ استعمال کیا تھا، نہ کہ تعمیر کا لفظ۔ یہ وہی بات ہے جس کو میں الرسالہ میں بار بار لکھ چکا ہوں۔ وہ یہ کہ ہندوستان کے حالات مسلمانوں کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ یہاں ایک تخلیقی اقلیت (creative minority) بن کر ابھریں اور پھر ان کے حق میں فطرت کا وہ قانون صادق آئے گا جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کتنے اقلیتی گروہ ہیں جو اکثریتی گروہ پر غالب آئے، خدا کے اذن سے (البقرہ ۲۴۹)۔

سوال

مجھے الرسالہ کے ایک قاری نے بتایا کہ آپ کسی کے سوال کا جواب نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی آپ سوال کو الرسالہ میں شائع کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ آپ ذرا الگ ٹائپ کے مولا نا ہیں۔ اس قاری کی بات میں کہاں تک سچائی ہے، یہی جاننے کے لیے میں آپ سے یہ سوال کر رہی ہوں۔ آخر آپ ایک مولا نا ہوتے ہوئے کسی کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے ہیں۔ برائے مہربانی بتائیں۔ (رخشاں ہاشمی، مونگیر، بہار)

جواب

میرے بارے میں یہ غلط پروپیگنڈہ ہے کہ میں جواب نہیں دیتا۔ اصل یہ ہے کہ لوگ عمومی رواج کے مطابق ، اپنی غلطی کا الزام دوسرے کے اوپر ڈالتے ہیں۔ سوال کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کے ساتھ اپنا پورا نام لکھا جائے، پتہ لکھا جائے اور تاریخ لکھی جائے۔ جو سوال ان شرائط کے مطابق

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page