سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
ہوتا ہے میں ضرور ان کا جواب دیتا ہوں۔ مگر جو سوال ان شرائط پر پورا نہیں اترتا میں اس کا جواب نہیں دیتا۔ اس کا ایک نمونہ خود آپ کا یہ خط ہے جس میں آپ کا پورا پتہ درج نہیں۔ آپ نے اپنا پتہ اس طرح لکھا ہے: رخشان ہاشمی، مونگیر، بہار۔ میرے خیال کے مطابق، یہ مکمل پتہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس میں گھر کا نمبر اور محلہ مذکور نہیں۔ تاہم میں اس خط کو الرسالہ کے سوال و جواب کے کالم میں شامل کر رہا ہوں تاکہ آپ کی شکایت ختم ہو جائے۔
سوال
الرسالہ مئی ۲۰۰۴ء میں ایک قاری کے سوال کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ زندگی ایک آرٹ ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی کانٹوں سے بچتے ہوئے پھولوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ میرے خیال سے آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں کیوں کہ زندگی صرف پھولوں کی سیج نہیں وہ کانٹوں کا بستر بھی ہے اور بنا کانٹوں سے الجھے کوئی بھی انسان پھول کو کیسے پاسکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پھول پانے کے لیے کانٹوں سے اُلجھنا بے حد ضروری ہے، تبھی انسان کامیاب ہوسکتا ہے۔ (رخشان ہاشمی، مونگیر، بہار)
جواب
آپ نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ میری ہی بات کو آپ نے بدلے ہوئے الفاظ میں دہرادیا ہے۔ میں سمجھ نہ سکا کہ میری بات اور آپ کی بات میں کیا فرق ہے۔ میں نے جو بات الرسالہ میں لکھی ہے وہ دراصل دو صحابی کے مکالمہ سے لی گئی ہے۔ عمر فاروق نے ایک بار ایک صحابی رسول سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین کیا آپ کبھی ایسے راستے سے گزرے ہیں جس میں جھاڑیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ صحابی نے دوبارہ پوچھا کہ پھر آپ نے کیا کیا۔ عمر نے کہا کہ میں نے اپنا دامن سمیٹ لیا اور بچتا ہوا راستہ سے گزر گیا۔ صحابی نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے۔ (ذٰلک التقویٰ)
یہ فطرت کا اصول ہے۔ یہ اصول اس دنیا میں متقیانہ زندگی کے لیے ضروری ہے اور عام انسانی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues