سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
زندگی کے لیے بھی۔ اس کے سوا کامیاب زندگی کا کوئی اور قابل عمل اصول نہیں۔ سوال ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ مولانا وحید الدین خان بہت عظیم شخصیت ہیں اور یہ کہ وہ ایک پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ وہ جو بھی دعا کرتے ہیں ضرور پوری ہوتی ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے بہت بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ آپ سے گذارش ہے کہ آپ ہمارے لیے بھی خدا سے خاص طور سے دعا کردیجئے کہ مجھے زندگی میں ہمیشہ کامیابی و کامرانی عطا ہو۔ (رخشان ہاشمی، مونگیر، بہار) جواب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت حاصل ہو۔ تاہم ایک اصولی بات یہ ہے کہ دعا کوئی مطلق چیز نہیں۔ دعا کی قبولیت ہمیشہ فطرت کے اصول کے تحت ہوتی ہے، فطرت کے اصول کے خلاف نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا کو بنایا ہے اس میں یہ مقدر کر دیا ہے کہ انسان کو مشکلات بھی پیش آئیں (لقد خلقنا الانسان فی کبد ) انسان کو آسانی بھی پیش آئے اور مشکل بھی (إن مع العسر یسرا) انسان کو دوستی کا تجربہ بھی ہو اور دشمنی کا تجربہ بھی (بعضکم لبعض عدو)۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ آپ یہ دعا کریں : رب یسر و لا تعسر و تمم بالخیر ۔ کسی پیغمبر یا صحابی نے کبھی یہ دعا نہیں کی کہ مجھ کو دنیا میں ہمیشہ کامیابی حاصل ہو اور کبھی بھی ناکامی نہ ہو۔
سوال
اسلام کی روشنی میں بتائیں کہ بدعت کسے کہتے ہیں ۔ (رخشان ہاشمی، مونگیر، بہار) جواب بدعت کے لفظی معنی نئی چیز کے ہیں۔ بدعت دراصل یہ ہے کہ عبادتی یا تعبدی امور میں کوئی نئی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues