سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
چیز نکالی جائے۔ مثلاً اذان میں کوئی شخص اللہ اکبر کے بجائے اللہ الصمد کہنے لگے۔ تعبدی امور میں صرف تقلید ہے۔ تعبدی امور میں کوئی بھی نئی چیز نکالنا جائز نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالی تو وہ قابل رد ہے۔
تاہم غیر تعبدی امور میں ضروریات زمانہ کی رعایت سے نئی چیز نکالنا جائز ہے۔ مثلاً چھپر کی مسجد کے بجائے پختہ مسجد بنانا۔
سوال
کلام پاک کی بہت ساری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ مثلاً قرآن میں ایک جگہ ہے کہ خدا جس کو چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے (آل عمران ۳۷) جب کہ خود قرآن ہی میں ایک دوسری جگہ ارشاد باری ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے (النجم ۳۹) (ایم اے خاں ، کلکتہ) جواب سورہ النجم کی آیت (لیس للانسان الا ماسعی) کا تعلق دنیا سے نہیں ہے بلکہ آخرت سے ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعام کا تعلق آدمی کے اپنے دنیوی عمل سے ہوگا، جیسا عمل ویسا انعام۔ نہ تو کوئی شخص عمل کے بغیر آخرت کے انعام کو پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا عمل کسی شخص کے لیے نفع بخش بن سکتا ہے۔ اس آیت میں آخرت کا قانون بیان کیا گیا ہے نہ کہ دنیا کا قانون۔ پہلی آیت (ان الله يرزق من يشاء بغیر حساب) کا تعلق دنیا کی معاشی تقسیم سے ہے۔ خدا کے قانون کے مطابق، دنیا کے معاشی وسائل ہر ایک کو برابر نہیں ملتے، کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ یہ فرق انعام یا سزا کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ قانونی امتحان کی بنا پر ہے۔ دنیا کی زندگی آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں کسی کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہوتا ہے۔ ہر ایک کے حالات کے لحاظ سے اس کو کوئی امتحانی پرچہ دیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں فرق کو امتحان کی مصلحت کے تحت سمجھنا چاہیے نہ کہ کسی اور نظریہ کی روشنی میں۔ سوال ۱۔ آپ نے الرسالہ جون ۲۰۰۴ کے صفحہ ۳۹ پر لکھا ہے کہ ’’اجودھیا کا معاملہ اتنا زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues