سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
نازک بن چکا ہے کہ اگر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ بابری مسجد کے متعلق فیصلہ مسلمانوں کے حق میں بھی دے دے تب بھی اس سے اصل مسئلہ حل ہونے والا نہیں“۔ اس جملے کا آخر کیا مقصد ہے۔ در پردہ اور بالواسطہ طور پر آپ ہندوؤں کو شبہہ دے رہے ہیں کہ اگر کورٹ بابری مسجد کے متعلق فیصلہ مسلمانوں کے حق میں بھی دے دے تو تم اس کو نہ ماننا بلکہ اس پر قبضہ جمائے رکھنا۔ کیا یہ اسلام دشمنی نہیں ہے۔ کیا یہ مسلمانوں کے حق میں منافقت والا رول نہیں ہے۔ آخر کیا ضرورت ہے کہ آپ ایک نزاعی معاملہ میں اتنا بڑا اور وہ بھی غلط قدم اٹھائیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ کو ہندونو از کہتے ہیں اور حکومت بھی آپ کو شوپیس (show piece) کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ آخر آپ کیوں ہندوؤں کی فرقہ پرست جماعت کو شبہہ دے رہے ہیں۔ کیا اس سے آپ کا ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ وضاحت کریں تا کہ ہم قارئین کو اصل حقیقت کا پتہ چل سکے۔
۲۔ قرآن وحدیث اور فقہ اور تاریخ کی روشنی میں ایک مسجد کے امام کی کیا حیثیت ہے۔ کیا کوئی امام ملت کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر کر سکتا ہے تو کیا ملت اسلامیہ کو اس کی پیروی کرنی چاہیے، وضاحت کریں۔
۳۔ افسانہ نگاری اور شاعری کرنا اسلام میں کہاں تک درست ہے۔ واضح ہو کہ افسانہ نگاروں کی دلیل یہ ہے کہ ہم در پردہ پر زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ تفریح کے سامان بھی۔ تاکہ عام لوگ جو زندگی سے مایوس ہو چکے ہوں ان کو اس سے کچھ فائدہ پہنچ سکے۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور، بہار)
جواب
اجودھیا کے مسئلہ کے بارے میں، میں نے جو بات کہی ہے وہ نئی بات نہیں ہے، وہ تقریباً تمام سنجیدہ لوگ کہتے رہے ہیں۔ عدالت خود اس معاملہ میں اپنی محدودیت کو سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس نے لمبی مدت کے باوجود اپنا فیصلہ دینے سے احتراز کیا ہے۔ مثلاً دُوارکا پیٹھ کا شنکر آچاریہ سور وپ آنند سرسوتی مہاراج نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: یہ کام عدالت کے فیصلہ پر بھی نہیں چھوڑا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues