سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
جانا چاہیے۔ عدالت کے فیصلے سے ایک فرقہ ضرور ناراض ہوگا اور اس مسئلہ پر ہند و اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے گی (راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، ۲۴ مئی ۲۰۰۴)
بنیادی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ جب نازک صورت اختیار کرلے اور اس کے ساتھ ضد اور ساکھ کا سوال جڑ جائے تو اس کا فیصلہ صحیح اور غلط کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ صورت موجودہ میں کیا چیز قابل عمل ہے اور کیا چیز قابل عمل نہیں ہے۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو یہ معاملہ برسوں کی جذباتی سیاست کے نتیجہ میں اتنا نازک بن چکا ہے کہ صرف قانون اور عدالت اس کے حل کے لیے کافی نہیں ہے۔
مثلاً عدالت اگر اجودھیا کے نزاع کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں کرے تو ہندو پیشگی طور پر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں عدالت کے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے شاہ بانو کے کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا مگر مسلمانوں نے اس فیصلے کو نہیں مانا اور اس کے خلاف مولانا علی میاں کی قیادت میں ایک ہنگامہ خیز تحریک چلائی۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ اس فیصلے کو رد کر دیا گیا۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ اجودھیا کے معاملہ میں ہم بھی یہی کریں گے اور مسلمانوں کو خود اپنی قائم کردہ نظیر کی بنیاد پر اس معاملہ میں ہمارے موقف کو ماننا چاہیے۔ یہ امید رکھنا کہ اگر عدالت مسلمانوں کے حق میں یہ فیصلہ دے تو حکومت اس کو طاقت کے زور پر نافذ کرے گی۔ یہ بلا شبہ ایک فرضی امید ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ حکومت کی بھی محدودیتیں ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو دن کے اجالے میں ہندو انتہا پسندوں کی ایک بھیڑ اجودھیا میں داخل ہوئی اور وہ سارے دن بابری مسجد کو توڑتی رہی اور حکومت اس کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ جب کہ اس وقت مرکز میں کانگریسی کی حکومت تھی جس کے پرائم منسٹر مسٹر نرسمہا راؤ تھے۔ اس واقعہ سے صرف ایک سال پہلے اسی کانگریس حکومت نے عبادت گاہوں کا قانون (places of worship act 1991) پارلیمنٹ میں پاس کرایا تھا۔ اس قانون میں کہا گیا تھا کہ حکومت بابری مسجد کی حالت موجودہ (status quo) کو باقی رکھنے کی پابند ہوگی۔ یہاں تک کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues