Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

معاملہ میں عدالت کا فیصلہ آگیا۔ مگر انتہا پسندوں کی بھیڑ نے علی الاعلان بابری مسجد کوڈھا دیا اور حکومت اپنے قانونی فرض کو ادا کرنے میں ناکام رہی۔ ایسی حالت میں حکومت سے امید رکھنا آزمودہ را آزمودن جہل است کے ہم معنیٰ ہے۔

۲۔ مسلم دنیا میں جب خلافت کا باقاعدہ نظام قائم تھا تو خلیفہ یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ مسجد کی نماز کی امامت کرتا تھا۔ اس وقت خلافت اور امامت دونوں ایک ہی ذمہ داری کے دو حصے تھے۔ مگر اب جب کہ خلافت کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔ اب مسجد کا امام صرف مسجد کا امام ہے۔ اب اگر کوئی امام مسجد کی امامت کے دائرہ سے باہر آ کر سیاسی سرگرمی دکھائے تو یہ ایک انحراف امامت کی بات ہوگی نہ کہ فرائض امامت ادا کرنے کی بات۔ نماز کی امامت سے باہر مسجد کے امام کی ذمہ داری اس وقت ہے جب کہ اس کو معاشرہ میں باقاعدہ اقتدار حاصل ہو۔ بے اقتدار امام کا کام صرف نماز پڑھانا ہے۔ سیاسی نوعیت کی سرگرمیوں میں حصہ لینا اس کے لیے ایک گناہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثبت سیاسی رول کے لیے اقتدار ضروری ہے۔ بے اقتدار امام اگر سیاسی رول ادا کرنے کے لیے اٹھے گا تو وہ ملت کے اندر صرف انتشار پیدا کرے گا۔ اس کا ارادہ بظاہر نیک ہو تب بھی عملاً وہ فتنے کا سبب بنے گا اور جس عمل کا نتیجہ فتنہ ہو اس سے پر ہیز کرنا فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ بے اقتدار امام کے لیے صرف امامت ہے نہ کہ لیڈری۔

۳۔ افسانہ نگاری اور شاعری کوئی نا جائز چیز نہیں مگر یقینی طور پر وہ بے فائدہ ہے۔ اور اسلام کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ آدمی بے فائدہ چیزوں سے پر ہیز کرے (من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ)۔ قدیم زمانہ میں عام رواج تھا کہ باتوں کو تمثیل یا فرضی حکایت (parable) کی زبان میں بیان کیا جاتا تھا۔ ہندو لٹریچر یا عیسائی لٹریچر اس قسم کی حکایتوں سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن عین اسی زمانہ میں اترا۔ مگر قرآن میں حکایت اور تمثیل کے اسلوب سے مکمل طور پر پر ہیز کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ یا کہانی کا انداز کوئی مطلوب انداز نہیں۔ اسی طرح عرب میں اسلام کا نزول ہوا تو وہاں شاعری کا عام رواج تھا۔ اکثر صحابہ اسلام سے پہلے شاعری کیا کرتے تھے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page