Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

ان کی شاعری چھوٹ گئی۔ عرب شاعر لبید نے جب اسلام قبول کیا تو انہوں نے بھی شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا ابعد القرآن۔

اصل یہ ہے کہ تحریر کے دو الگ مقصد ہیں۔ ایک ہے، تفریح کا مواد فراہم کرنا اور دوسرا ہے، انسان کے اندر فکری انقلاب لانا۔ افسانہ یا شاعری فنون لطیفہ کی چیزیں ہیں۔ وہ انسان کو صرف سستی تفریح فراہم کر سکتی ہیں۔ مگر اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا طرزِ فکر بدلے، وہ ربانی انداز میں سوچنے لگے۔ یہ دوسرا مقصد صرف سنجیدہ نص کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے۔

سوال

بمبئی کے ایک روزنامہ میں آپ کے خلاف ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: مولانا وحیدالدین صاحب، صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان بھی ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مولانا وحیدالدین صاحب مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کی نصیحت کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان ہوئی تھی جس میں صحابہ نے جہاد پر بیعت کی تھی۔ اس کے بارہ میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ یہ سوال یہاں کئی لوگوں کے ذہن میں آرہا ہے (فاروق فیصل، بمبئی) جواب بیعت رضوان اگر بالفرض بیعت جہاد ہو تب بھی میری بات ثابت شدہ ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بیعت جہاد“ کے با وجود صلح حدیبیہ کو قبول فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سے پہلے کی بیعت، اگر بالفرض وہ جہاد کی بیعت ہو، تب بھی وہ سنت رسول کے مطابق منسوخ قرار پائے گی۔ کیوں کہ اس موقع پر آپ کا جو آخری عمل تھا وہ جہاد کا نہ تھا بلکہ صلح کا تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ بیعتِ رضوان کے نام پر حدیبیہ کے مقام پر جو بیعت ہوئی وہ جہاد یا قتال کی بیعت نہ تھی بلکہ وہ صرف عدم فرار کی بیعت تھی۔ چنانچہ بیعت میں شامل ہونے والے صحابی کہتے ہیں کہ بایعنا ان لا نفر (ہم نے اس پر بیعت کی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے)۔ یعنی اگر فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت کی صورت پیش آجائے تو ہم مقابلہ کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page