Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

کہ فرار کے طریقہ ۔ اس معاملہ میں اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو اس کے سوا کوئی اور مطلب اس کا نہیں نکلتا ۔ یعنی اگر فرار اور عدم فرار کے درمیان انتخاب (option) کا معاملہ ہو تو فرار کو چھوڑ کر عدم فرار کے طریقہ کو اختیار کیا جائے گا ۔ اسی طرح اگر جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب ہو تو صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے گا ، نہ کہ جنگ کا طریقہ ۔

سوال

آج کل یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ عقیدہ کے حدود کیا ہیں ۔ اجودھیا کے مسئلہ کے حوالہ سے یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ مسجد اور مندر کا ایشو عقیدہ کا مسئلہ ہے یا عدالت کا مسئلہ ۔ یہ وقت کا ایک اہم سوال ہے۔ آپ اس مسئلہ کی وضاحت کریں (مستقیم احمد، دہلی)

جواب

اس معاملہ میں جہاں تک رام مندر کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ ہندو عقیدہ کے مطابق ، رام بھگوان کے اوتار تھے یا نہیں ۔ یہ بلاشبہ عقیدہ کا ایک مسئلہ ہے۔ اگر کچھ لوگ اپنے مذہب کے مطابق یہ سمجھیں کہ رام بھگوان کے اوتار تھے تو یہ اُن کے ذاتی عقیدہ کا مسئلہ ہوگا۔ اس معاملہ میں قانون یا عدالت کو تعرض کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ یہ کسی فرد کا ایک ذاتی معاملہ ہے اور فرد ہی اُس کے بارے میں جو فیصلہ چاہے کر سکتا ہے۔

مگر جب یہ کہا جائے کہ رام فلاں متعین جغرافی مقام پر پیدا ہوئے تو یہ بلاشبہ عدالت کا ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور تاریخی دستاویزات یا خارجی شہادتوں کی بنیاد پر عدالت یہ فیصلہ دے گی کہ یہ دعویٰ صحیح ہے یا نہیں کہ رام فلاں متعین جغرافی خطہ میں پیدا ہوئے۔

جہاں تک مسجد کا معاملہ ہے، مسجد کے مسئلہ کے بھی دو پہلو ہیں ۔ ایک اعتبار سے مسجد ایک عقیدہ کی بات ہے۔ مسجد ایک مقدّس چیز ہے اور عبادت گاہ کی حیثیت سے اُس کا تقدس ہر حال میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مگر اسی کے ساتھ مسجد کا معاملہ کا ایک اور پہلو ہے۔ اور اس دوسرے پہلو کے اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page