سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
سے مسجد کا تعلق قانون اور عدالت کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ مسجد اگر دوسروں کے لیے کسی اعتبار سے ضرر رساں بن جائے۔ مثلاً مسجد میں تیز لاؤڈ اسپیکر لگا کر صوتی کثافت (noise pollution) پیدا کرنا، سڑک پر نماز کی صفیں قائم کر کے ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنا، مسجد میں سیاسی اور جوشیلی تقریریں کر کے جھگڑا کھڑا کرنا، غصب کی زمین پر مسجد بنانا، اس قسم کا کوئی معاملہ ہو تو اس پہلو کے اعتبار سے مسجد کا معاملہ قانون اور عدالت کا معاملہ بن جائے گا اور عدالت مجاز ہوگی کہ وہ اس پہلو سے اپنا عادلانہ فیصلہ دے۔
سوال
میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان میں فیکلٹی شریعہ اینڈ لاء کا اسٹوڈنٹ ہوں، اور آپ کے الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں پڑھ کر آپ کی فکر سے آشنائی ہوئی اور حقیقتاً فکر و عمل میں ایک انقلاب لانے والی فکر سے آشنا ہو کر قلبی سکون ہوا کہ ابھی امت کے علماء اپنے نور بصیرت سے اعتدال کی راہ پر چلتے ہوئے صبح انقلاب کی نوید مسرت سنا سکتے ہیں اور خدا کی فطرت سے سیکھ سکتے ہیں۔ آپ نے اب مجھے سوچنے کی عادت ڈال ہی دی تو میری رہنمائی بھی فرمائیں اور پلیز مجھے مندرجہ ذیل باتوں سے آگاہ فرمائیں۔
۱۔ آج کے دور میں جہاں علوم کی کثرت آسمان کی بلندیوں کو چھورہی ہے اور تمام معلومات کا احاطہ ممکن نہیں تو ایک علم کا پیاسا کس طرز عمل کو اختیار کرے کہ وہ اس دنیا میں کامیاب ہو اور اُس کا ایجوکیشنل کیرئیر بھی بہتر ہو۔ ورنہ سفر زیادہ اور زاد راہ کم ہے۔
۲۔ آپ کی رائے کے مطابق، ایک مسلم نوجوان تعلیم کے میدان سے فارغ ہونے کے وقت کس قسم کے اسلحہ سے لیس ہو۔ اس کی شخصیت کس چیز کی آئینہ دار ہو۔ موجودہ دور میں کامیابی کے لیے اور دین اسلام کی فہم کے لیے نصاب تعلیم کس قدر اور کس کو محیط ہو۔ بچہ و نوجوان کے لیے ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کا نصاب کیسا ہو جو فکری و عملی تربیت کے ساتھ زمانے کے تقاضے پورے کرتا ہوا قائدانہ کردار ادا کرے۔ (محمد احمد، اسلام آباد، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues