Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

جواب

۱۔ مطالعہ کا مقصد تمام مطبوعہ کتابوں کو پڑھنا نہیں ہے۔ مطالعہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ آدمی زمانہ کے بنیادی افکار کو جان لے۔ بقیہ چیزوں کو جاننے کا ذریعہ آدمی کی خود اپنی فطرت یا اُس کا من سنہ ہے۔ اپنی فطرت کو مثبت اصول پر زندہ کیجئے، اور آپ کے لیے انتخابی (selective) مطالعہ ہی صاحب علم اور صاحب بصیرت بننے کے لیے کافی ہو جائے گا۔

۲۔ میرے نزدیک طالب علمی کے زمانہ میں ایک شخص کو صرف اپنی تعلیم پر دھیان دینا چاہیے۔ طالب علمی کے زمانہ میں اُس کا نظریہ تعلیم برائے تعلیم ہونا چاہیے۔ آج کل یہ رواج ہو گیا ہے کہ طلباء سیاسی اور قومی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ میرے نزدیک مہلک ہے، طالب علم کے لیے بھی اور وسیع تر معنوں میں پوری قوم کے لیے بھی۔

۳۔ موجودہ زمانہ میں مسلم نوجوان کا سب سے بڑا مسئلہ منفی طرز فکر ہے۔ تقریباً ساری دنیا میں مسلم نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ وہ منفی ذہن کے تحت سوچنے لگے ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ غیر مسلم قومیں اُن کی دشمن ہیں۔ وہ اُن کے خلاف سازشیں کررہی ہیں۔ وہ اُن کو مٹانے کے درپے ہیں۔ اس قسم کے نظریات سراسر بے بنیاد ہیں۔ کیوں کہ قرآن میں واضح لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ اُن کی داخلی کمزوری ہے، نہ کہ خارجی سازش۔

میرے نزدیک مسلم نوجوانوں کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اس غلط طرز فکر سے نکلیں ۔ وہ دنیا کے تمام لوگوں کو انسان سمجھیں۔ وہ میری قوم اور غیر قوم کی اصطلاحوں میں سوچنا بند کریں۔ وہ دنیا کی قوموں کو مسلم دشمن اور مسلم نواز کے خانوں میں تقسیم نہ کریں۔ وہ مکمل طور پر مثبت طرز فکر کو اپنائیں، حتیٰ کہ اُن لوگوں کے معاملہ میں بھی جن کو انہوں نے خود ساختہ مفروضہ کے طور پر مسلم دشمن کا لقب دے رکھا ہے۔

ماہنامہ الرسالہ میں ہم بار بار ہر قسم کے دلائل کے ذریعہ یہ بتاتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شکایت اور احتجاج کا ذہن ختم کریں ۔ وہ اپنی منفی سرگرمیوں کو یک لخت بند کر دیں۔ جہاد

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page