Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

کے نام پر متشددانہ سرگرمیوں کو پوری طرح چھوڑ دیں۔ اس کے بجائے وہ اپنی طاقت کو تعلیم، دعوت، اصلاح معاشرہ اور تعمیر وترقی کے غیر سیاسی میدانوں میں استعمال کریں۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ علماء اور جماعتیں مکمل طور پر سیاسی سرگرمیوں سے علیحدہ ہو جائیں۔ وہ مسجد اور مدرسہ اور ادارہ جیسے شعبوں میں پر امن طور پر تعمیری اصلاح کا کام کریں۔ موجودہ زمانہ میں ترک سیاست حقیقی ملی کام کا آغاز ہے۔ جب تک اس راز کو نہ سمجھا جائے، ملت کے اندر کسی نتیجہ خیز کام کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔

سوال

الرسالہ مارچ ۱۹۹۸ میں آپ نے صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ کا طریقہ اختیار اعسر کے مقابلہ میں اختیار ایسر کا تھا۔ یہ حدیث بلاشبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم ترین صفت کو بتاتی ہے۔ لیکن قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طرزِ فکر وعمل دوسرے تمام پیغمبروں کا نہ تھا۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ انہوں نے ایک بڑے بت خانے میں داخل ہو کر وہاں کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور صرف ایک بڑے بت کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا (الانبیاء ۵۸)

ان حالات میں ان کا بتوں کو توڑنا مذکورہ حدیث میں بتائی گئی سنت سے مختلف عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ حالاں کہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے زیادہ آسان عمل یہی تھا کہ وہ بت شکنی کے بجائے دعوت وتبلیغ کا طریقہ اختیار کریں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی یہی بت شکنی کی ادا پسند آئی اور آپ کو آگ سے صحیح وسلامت بچایا۔ (غلام نبی کشانی، سرینگر) جواب آپ کا سوال غلط تقابل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ آپ نے استثناء کا تقابل عموم سے کیا ہے جو درست نہیں۔ صحیح البخاری کی روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے تمام پیغمبروں کی عمومی پالیسی کو بتاتی ہے۔ جہاں تک حضرت ابراہیم کے مذکورہ واقعہ کا تعلق ہے، وہ اتمام حجت کے بعد کا ایک واقعہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page