Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

ہے جو دعوت کے عمل کی تکمیل کے بعد آخری مرحلہ میں کیا گیا۔ اتمام حجت کے بعد اس قسم کا استثنائی واقعہ ہر پیغمبر بشمول پیغمبر اسلام کی زندگی میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام کا یہ ارشاد کہ: أُمِــرْتُ ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا اله الا الله، اتمام حجت کے بعد کا کلمہ ہے، وہ آپ کے عمومی انداز دعوت کا بیان نہیں۔

آپ کا یہ ارشاد صحیح نہیں کہ حضرت ابراہیم نے پر امن دعوت کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ یہ ایک غلط جمرلائزیشن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت ابراہیم نے ۱۷۵ سال کی عمر پائی۔ اس طویل عمر میں ہمیشہ آپ پر امن دعوت ہی کا کام کرتے رہے۔ مذکورہ واقعہ صرف ایک دن کا واقعہ ہے، وہ اُن کی پوری عمر کا عمومی طرز عمل نہیں۔ آپ کا یہ ارشاد بھی درست نہیں کہ "اللہ تعالیٰ کو اُن کی بت شکنی کی ادا پسند آئی۔"۔۔ یہ جو کچھ حضرت ابراہیم کے ساتھ پیش آیا وہ براہِ راست خدا کے حکم سے تھا۔ ہر پیغمبر کے ساتھ اتمام حجت کے بعد اسی قسم کا واقعہ مختلف صورتوں میں پیش آیا ہے۔ سوال I have gone through your book The Concept of God written by Maulana W. Khan, which gave a vivid and brief encounter about the supernatural fact called God. But lastly an unseemly question appeared in my mind which says that 'What was the necessity for the infinite power, called God to create the universe and living organism?' Thus I will be highly obliged if you please convey my question to the author. (Soujatya Ghosh, student of Collage Leather Tech.)

جواب

میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے کائنات کو اپنی ضرورت کے لیے نہیں بنایا بلکہ اس کو ہماری ضرورت کے لیے بنایا ہے۔ اس تخلیق کے ذریعہ خدا نے ہمارے لیے ایک عظیم امکان

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page