Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

(great opportunity) کھولی ہے۔ وہ یہ کہ ہم سو سال یا اس سے کم کی مختصر زندگی میں حسن عمل کا ثبوت دیں اور موت کے بعد ابدی جنت میں داخلہ پا کر ابدی راحت کی زندگی گذاریں۔ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر آئیڈیل ورلڈ کی تلاش میں ہے۔ جنت اسی تلاش کا جواب ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم آئیڈیل ورلڈ کو نہیں پا سکتے البتہ موجودہ محدود زندگی میں آئیڈیل کیریکٹر کا ثبوت دے کر اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا سکتے ہیں کہ جنت کی ابدی دنیا میں ہم کو داخلہ ملے۔

سوال

موجودہ دور کی روشنی میں دعوت کی ذمہ داری جو ہم پر ڈالی گئی ہے اس کی شکل کیا ہونی چاہیے ۔ کیا ہم یک طرفہ اپنی اصلاح کرتے رہیں اور اقوام عالم کی نظروں میں انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیے جائیں۔ کیا ملت کے لیے یہ خود چیلنج نہیں ہے۔ پُرتشدد طریقہ کار کو استعمال کرنا سنت رسول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اور جو افراد ملت سنت کی خلاف ورزی کریں وہ کیا فلاح پانے والے ہیں۔ اپنے حق یا آزادی کے نام پر ظلم کرنا اور بے گناہوں کا خون کرنا کون سی شہادت یا کارِ خیر ہے۔ (ابرار حسین قریشی، دھار، مدھیہ پردیش)

جواب

۱۔ دعوت سے مراد غیر مسلموں تک اسلام کا مثبت پیغام پہنچانا ہے۔ یہ مسلمانوں کے اوپر ایک لازمی فریضہ ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ مسلمانوں کے اوپر سے ساقط نہیں ہوتا۔ ۲۔ موجودہ زمانہ میں مسلم تنظیمیں جگہ جگہ جہاد کے نام پر متشددانہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔ یہ بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہیں۔ مسلح جہاد صرف قائم شدہ حکومت کا حق ہے۔ غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ جہاد کے نام سے کسی کے خلاف مسلح کارروائی شروع کر دیں۔ مزید یہ کہ جو مسلمان عملاً اس میں حصہ نہیں لیتے مگر وہ تحریر اور تقریر کے ذریعہ اس کو جہاد بتاتے ہیں وہ بھی اسلامی اصول کے مطابق ، اس ناجائز فعل میں برابر کے شریک ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ بھی اس میں شریک مانے جائیں گے جو اس برائی کو جانیں مگر وہ اس پر خاموش رہیں، وہ اس کے بارے میں غیر جانبدار بن جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page