Al-Risala · February 2004 · page 4

سیاسی اختلاف

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴

سیاسی اختلاف

حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ وسلم نے یہ پیشین گوئی فرمائی ہے کہ میرے بعد حکمرانوں کے اندر بگاڑ پیدا ہوگا۔ لوگ اس سیاسی بگاڑ کی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑیں گے۔ یہ لڑائیاں میری امت کو تباہ کر دیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی جنگ سے شدت کے ساتھ منع فرمایا۔ آپ نے تاکید کی کہ حکمرانوں میں خواہ تم کتنا ہی بگاڑ دیکھو مگر تم ان سے جنگ نہ کرنا۔ تم ان کے مقابلہ میں صرف صبر اور خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا۔

اس سلسلہ میں حدیث کی ہر کتاب میں کثرت سے روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: من كره من اميره شیئا فليصبره (جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اس پر صبر کرے)۔ اس موضوع پر سعودی عرب سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے الغلو فی الدین (عبد الرحمن بن معلّی اللّو حق)۔ چھ سو صفحے کی اس کتاب میں اس موضوع پر تمام احادیث اور آثار کو جمع کر دیا گیا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو دیکھ سکتے ہیں۔

تجربہ بتاتا ہے کہ تاریخ میں سب سے زیادہ لڑائیاں سیاسی اختلاف کی بنا پر پیدا ہوئی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاست کبھی پوری طرح بگاڑ سے خالی نہیں ہو سکتی۔ سیاسی اقتدار اور بگاڑ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں کچھ نادر شخصیتوں کا استثناء ہو سکتا ہے۔ مگر عمومی قاعدہ یہی ہے۔

اب ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب سیاسی حکمرانوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ فوراً اس کی اصلاح کے نام پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔ یہ اصلاحی جنگ ہمیشہ فسادی جنگ بن جاتی ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی اصلاح کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے لڑائی کی گئی تو اس کے نتیجہ میںصرف بگاڑ اور فساد میں اضافہ ہوا، مزید یہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page