These books do not address our mind
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۹
لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے۔ انھوں نے میرا نام بتایا۔ یہ نوجوان میرے پاس آئے۔ میں نے ان لوگوں کو نہ صرف اپنی کتابیں پڑھنے کو دیں بلکہ ان کو اپنے ہفتہ وار اسپرچول کلاس میں شامل کر لیا۔ اب یہ نوجوان مکمل طور پر اسلام کی صداقت پر مطمئن ہو چکے ہیں اور وہ ہمارے مشن کے باقاعدہ ممبر ہیں۔ اس تجربہ سے مجھے ایک نئی حقیقت دریافت ہوئی۔ مسلمانوں میں جو مصلحین اٹھے انھوں نے زیادہ تر جلسوں اور اجتماعات کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ گویا کہ ان کا طریقہ بھیڑ (crowd) کو ایڈریس کرنا تھا۔ مگر یہ تجربہ اپنے مقصد کے اعتبار سے ناکام رہا۔ اسپرچول کلاس کے تجربہ کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا کہ اصلاح یا قرآن کے الفاظ میں تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انفرادی ذہن کو ایڈریس کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ اصلاح کا مقصد حقیقی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس تجربہ کے ذریعہ میں نے ایک معلوم حقیقت کو دوبارہ دریافت کیا۔ وہ یہ کہ، مشہور حدیث کے مطابق، ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی بے آمیز فطرت پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان کو مسٹر نیچر کہا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے بعد اس کا ماحول اس کو ’’یہودی یا مجوسی یا نصرانی‘‘ بنا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ایک کنڈیشنڈ کیس بن جاتا ہے۔
ایسی حالت میں سب سے پہلا کام ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو توڑنا ہے۔ گویا یا اصلاح و تزکیہ کا کام ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ عمومی تقریر یا وعظ خوانی سے۔
ہماری اسپرچول کلاس میں جو ہندو نوجوان شریک ہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم اس کلاس میں شرکت سے پہلے اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اسلام ہمارے لئے کوئی پسندیدہ مذہب بن سکتا ہے۔ ہم تو آپ کے پاس روحانیت (spirituality) کی تلاش میں آئے تھے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اسلام کا مطالعہ اسلام کے بارے میں ہمارے منفی ذہن کو مزید پختہ کر دے گا۔ مگر آپ نے ہمارے اوپر دی کنڈیشننگ کا جو پر اس چلایا اس کے بعد ہی یہ ممکن
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues