hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰
ہوا کہ ہم اسلام کی تصویر کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں۔ گویا کہ یہ لوگ اسپرچولٹی کے راستہ سے اسلام تک پہنچے۔
اسپرچول کلاس سے ایک اور بات مجھے معلوم ہوئی۔ یہ نوجوان میری کلاس میں آنے لگے تو میں اپنی عادت کے مطابق، ایسا نہیں کرتا تھا کہ ان سے میٹھی میٹھی باتیں کروں۔ بلکہ میں شدید الفاظ میں ان کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں اپنے ماں باپ کی طرف سے ٹیمپرنگ (pampering) کے عادی تھے لیکن میرے یہاں اس کے برعکس انہیں ہیمرنگ (hammering) کا تجربہ ہوا۔ ابتدا میں وہ لوگ اس سخت تجربہ سے گھبرائے۔ مگر وہ برابر ہماری کلاس میں آتے رہے کہ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔
آخر کار اب وہ کھلے طور پر مانتے ہیں کہ میری ہیمرنگ سے ان کو وہ فائدہ ہوا جو انہیں ان کے ماں باپ کی ٹیمپرنگ سے نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا تھا۔ ہماری کلاس کی ایک خاتون پریا ملک بمبئی گئیں ۔ وہاں ایک مسلمان سے ان کی گفتگو ہوئی۔ پریا ملک نے اسلام کے بارے میں جو گہری باتیں بتائیں اس کو سن کر مسلمان کو بہت تعجب ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوئیں پھر اسلام کے بارے میں آپ کے اندر اتنی کلارٹی (clarity) کہاں سے آئی۔ پریا ملک نے جواب دیا کہ اس کا راز صرف ایک ہے اور وہ ہے:
hammering, hammering, hammering.....
اس سفر یا بالفاظ دیگر سفری کلاس (calss on wheels) میں حسب ذیل افراد شریک تھے محمد خالد انصاری، ڈاکٹر پردھان، رجت ملہوترا، پریا ملک، سنتھی ملہوترا، منجو ورمانی ، فریدہ خانم۔ یہ قافلہ ایک کوالس گاڑی میں سوار ہو کر ۳ جون کی صبح کو دہلی سے بلسوری (ضلع بلند شہر) کے لئے روانہ ہوا۔ پورے راستہ میں تعلیم و تعلم کا تقریباً وہی طریقہ رائج رہا جو ہماری ہفتہ وار کلاس میں دہلی میں ہوتا ہے۔
۳ جون ۲۰۰۲ کی صبح کو ۱۰ بجے نظام الدین سے روانگی ہوئی۔ روانہ ہوتے ہی سفری کلاس
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues