hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۱
کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم اس سفر کا آغاز ایک دعا سے کریں گے۔ میں اس دعا کے الفاظ دہراتا ہوں اور آپ سب لوگ اس کو سن کر اسی طرح اس کو دہرائیں، جیسا کہ میں نے کہا ہے: سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين۔ وانا الی ربنا لمنقلبون (الزخرف ۱۳-۱۴)
یہ قرآن کی آیت ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے: پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کر دیا، اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں کرتے۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
اس کے بعد میں نے لوگوں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک دعا بتائی جو سفر سے تعلق رکھتی ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سفر پر روانہ ہوئے تو آپ نے یہ دعا پڑھی: اللهم انی اسألک فی سفری هذا البر والتقوی، و من العمل ما ترضى، اللهم هوّن لنا السفر واطو لنا البعيد، اللهم انت الصاحب فی السفر والخليفة في الأهل، اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا فى اهلنا (مسند احمد ۱۲۴/۲)
اس دعا کا ترجمہ یہ ہے:
اے اللہ، ہم اس سفر میں تجھ سے سوال کرتے ہیں نیکی کا اور تقویٰ کا، اور ایسے عمل کا جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ، تو ہمارے لئے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لئے دوری کو کم کر دے۔ اے اللہ، تو اس سفر میں ہمارا رفیق ہے اور تو ہمارے گھر والوں کا نگہبان ہے۔ اے اللہ، تو ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے بعد ہمارے گھر والوں کی خبر گیری فرما۔
پھر میں نے کہا کہ قرآن کی جو آیت ہم نے پڑھی اس میں تسخیر کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی خدا نے کچھ چیزوں کو اس طرح ہمارے تابع کر دیا ہے کہ ہم ان کو اپنے سفر کے لئے استعمال کریں اور ان پر سواری کر کے دور کے مقامات پر آسانی کے ساتھ پہنچ سکیں ۔ دوسری مخلوقات، مثلاً جانور اپنا سفر خود اپنے آپ کرتے ہیں۔ یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے سفر کے لئے دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues