hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۲
چیزوں کو بطور سواری استعمال کرتا ہے۔
خدا نے کچھ جانوروں، مثلاً گھوڑے اور اونٹ کو فطری طور پر ایسا بنایا ہے کہ وہ انسان کے تابع بن جائیں اور انسان کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر دور کے مقامات تک لے جا سکیں۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ انسان نے پہیئے (wheels) دریافت کیے اور بیل گاڑی اور گھوڑا گاڑی اور اونٹ گاڑی بنا کر ان پر سفر کرنے لگا۔ اسی طرح خدا نے پانی کے لئے ایک ایسا قانون مقرر کیا کہ جس کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ انسان کشتی جیسی سواری بنا کر اس میں بیٹھے اور پانی کو اپنے لئے کھلی سڑک کے طور پر استعمال کرے۔ اسی طرح خدا نے غیر ذی روح اشیاء اور معدنیات میں ایسے خواص (properties) رکھ دیں کہ انسان اپنی عقل کو استعمال کر کے انھیں تیز رفتار سواری میں ڈھال سکے۔ اس طرح ایک نئی انجینئرنگ وجود میں آئی۔ انسان نے اپنی عقلی صلاحیت کو استعمال کر کے ان قوانین فطرت کو دریافت کیا اور پھر ریلوے، اسٹیم شپ، موٹر کار، اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں وجود میں آئیں۔ ہماری یہ گاڑی جس میں ہم اس وقت سفر کر رہے ہیں وہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ یہ گاڑی کیا ہے ۔ یہ ہے مادہ کا مشین میں تبدیل ہو کر زمین پر دوڑنا۔ غیر متحرک چیزوں کا متحرک صورت اختیار کر لینا۔ یہ سواری خدا کی ایک ایسی رحمت ہے جو ساری کائنات میں انسان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ جب ہم گاڑی میں سفر کریں تو یہ احساس ہمارے اوپر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ہمارا دل شکر کے احساس سے بھر جائے۔ جب ایسا ہوگا تو ہمارا پورا سفر ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ شکر کیا ہے۔ شکر در اصل دینے والے عطیہ کا اعتراف (acknowledgement) ہے۔ یہ اعتراف بلاشبہ سب سے بڑی انسانی صفت ہے۔ اعتراف کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت زندہ ہے۔ وہ دیانت دار (honest) ہے۔ وہ چیزوں کو سنجیدگی کے ساتھ لیتا ہے۔ وہ گھمنڈ اور منافقت سے پاک ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پایا جاتا ہے۔ وہ ایک سچا انسان ہے۔ وہ اس واقعہ کو مانتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ استعمال کر رہا ہے، وہ اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کو برائے استعمال دی گئی ہیں۔ شکر یا اعتراف ایک مکمل کردار
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues