hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۳
ہے، وہ صرف ایک لفظی تکرار کا نام نہیں۔
شکر کی یہ اسپرٹ اگر کسی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو یہ اس کے لئے ایک داخلی انقلاب کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس کو وہ اعلیٰ نفسیاتی تجربہ ہونے لگے گا جس کو روحانی ارتقا (spiritual development) کہا جاتا ہے۔
دہلی سے آگے بڑھا تو ہماری گاڑی اس مشہور روڈ پر تھی جس کو ’تاج اکسپریس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ روڈ دہلی سے آگرہ جاتی ہے۔ اس کو ’ورلڈ کلاس روڈ‘ (world class road) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں کے مقابلہ میں یہ ضرور ایک اچھا روڈ ہے مگر میرے تجربہ کے مطابق، وہ ورلڈ کلاس روڈ (world class road) نہیں۔ ہماری گاڑی کے ساتھ وہ جھٹکے تو نہیں لگ رہے تھے جس کا تجربہ بہار کی سڑکوں پر ہوتا ہے۔ مگر میں محسوس کر رہا تھا کہ ہماری گاڑی برابر اوپر نیچے ہو رہی ہے۔ باہر کے ملکوں میں میں نے بار بار ورلڈ کلاس (world class) سڑکوں پر سفر کیا ہے۔ وہاں میں نے پایا ہے کہ گاڑی بالکل اسموتھ (smooth) انداز میں چلتی رہتی ہے۔ ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں لگتا۔ جب کہ اس سڑک پر ایسا نہیں تھا۔
آج کل انڈیا میں ورلڈ کلاس چیزوں کا بہت چرچا ہے۔ ورلڈ کلاس شہر، ورلڈ کلاس روڈ، ورلڈ کلاس ایرپورٹ، ورلڈ کلاس یہ اور ورلڈ کلاس وہ۔ مگر انڈیا میں کرپشن اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہاں کوئی بھی ورلڈ کلاس پلان صرف کرپشن کی نئی صورت بن جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کل ورلڈ کلاس تعمیرات کی جو باتیں ہو رہی ہیں وہ صرف لوٹ (loot) کو بڑھائیں گی، کچھ لوگ زیادہ امیر بن جائیں گے اور جو لوگ غریب ہیں وہ اپنی پچھلی حالت میں پڑے رہیں گے۔
انڈیا میں ایک نعرہ کا بہت چرچا ہے اور وہ ہے غریبی ہٹاؤ (eradication of poverty) مگر میرے نزدیک یہ اصل بات نہیں۔ انڈیا میں کرنے کا اصل کام کرپشن ہٹاؤ (eradication of corruption) ہے۔ انڈیا میں جب تک کرپشن ہے یہاں حقیقی معنوں میں کوئی بھی ترقی ہونے والی نہیں۔ تاج اکسپریس تقریبا پچیس کلومیٹر تک ہمارے ساتھ تھی۔ اس کے بعد دوسرا روڈ آگیا۔ یہ روڈ ویسا ہی تھا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues