Al-Risala · November 2004 · page 14

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۴

جیسا کہ عام طور پر انڈیا میں ہوتا ہے۔

ہماری گاڑی آگے بڑھی تو میں نے لوگوں سے کہا کہ ہر شریکِ سفر اپنے بارے میں مختصر طور پر بتائے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہماری اسپیشول کلاس میں پچھلے تقریباً چار سال سے برابر شریک رہے ہیں۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ ہر ایک اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں بتائے کہ کلاس میں شرکت سے اس نے کیا سیکھا اور کیا جانا۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنی اپنی بات بتائی۔ ہر ایک کی بات اس کے اپنے الفاظ میں یہاں نقل کی جارہی ہے۔

محمد خالد انصاری: مولانا وحید الدین سے ملنے سے پہلے اسلام میرے لئے صرف ایک عقیدہ (ritualistic faith) تھا۔ بچپن میں والدین اور قریبی رشتہ داروں نے جو کچھ مجھ کو مذہب کے بارے میں بتایا اس کو میں نے فائنل سمجھ کر مان لیا۔ جب کبھی دماغ میں کوئی سوال آیا، یا تو اس کا غیر تشفی بخش جواب ملایا پھر یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ مذہب کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا۔ اگر دلیل مانگو گے تو تم ایمان سے خارج ہو جاؤ گے۔ کچھ بنیادی سوالات جن کا تعلق خدا کیا ہے، ہماری اس موجودہ زندگی کا کیا مقصد ہے، جنت ہے تو کیوں ہے اور کہاں ہے، وغیرہ وغیرہ، کا کبھی بھی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ مولانا وحید الدین سے جب میں ملا تو میں نے ان سے بھی یہی بنیادی سوال کئے ۔ ان سوالات کے جواب مولانا نے دینے شروع کئے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے دو اور چیزیں بتائیں : آرٹ آف اینلس (art of analysis) اور انٹیلکچول ڈیویلپمنٹ (intellectual development)۔ یہ دونوں چیزیں بغیر ہیمرنگ (hammering) کے ممکن نہیں تھیں۔

چوں کہ مجھے اپنے سوالوں کے جوابات سیدھے اور جلدی چاہئے تھے اس لئے مولانا کا بتایا ہوا فارمولا شروع میں مجھے اپیل نہیں کیا۔ جب بھی میں کوئی سوال کرتا اور اپنی رائے دیتا تو مولانا فوراً میری (hammering) کرنے لگتے۔ اس سے کئی بار ڈس اپائنٹمنٹ (disappointment) بھی ہوا۔ لیکن لرننگ پراسس (learning process) جاری رہنے کی وجہ سے بہت جلد مجھے احساس ہوا کہ مولانا کی ہیمرنگ (hammering) بے وجہ نہیں تھی۔ چوں کہ میرا دماغ بچپن سے ایک خاص ماحول

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page