Al-Risala · February 2004 · page 5

سیاسی اختلاف

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۵

مسلمانوں کا اجتماعی اتحاد ٹوٹ گیا۔ مسلمان دو گروہ حکمرانوں اور غیر حکمرانوں میں تقسیم ہو کر آپس میں لڑنے لگے۔ تمام دینی اور تعلیمی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئیں۔

ایسی حالت میں اہل اسلام کے لیے لازم ہے کہ وہ اھون المفسد تین کا طریقہ اختیار کریں۔ ایسی حالت میں حکمرانوں سے لڑنا زیادہ بڑی برائی ہے اور حکمرانوں سے ٹکراؤ کو اعراض کرتے ہوئے پر امن دائرہ میں دینی اور تعلیمی خدمات انجام دیتے رہنا چھوٹی برائی۔ اور جب انتخاب چھوٹی برائی اور بڑی برائی کے درمیان ہو تو بہترین عقل مندی یہ ہے کہ بڑی برائی سے بچا جائے اور چھوٹی برائی کو گوارا کر لیا جائے۔

اتحاد اسی حکمت کی نقد قیمت ہے۔ جب بھی یہ حکیمانہ تدبیر اختیار کی جائے تو امت کے اندر اتحاد اور اتفاق کی فضا قائم ہوگی اور جب اس حکیمانہ تدبیر کو چھوڑ دیا جائے تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ اتحاد اور اتفاق کا خاتمہ ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ تمام تعمیری کاموں کا خاتمہ بھی۔ سیاسی بگاڑ کے موقع پر سوچنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ایک بگاڑ ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو درست کریں۔ اس کے مقابلے میں سوچنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر ہم بگاڑ کو درست کرنے کے لیے اٹھیں تو اس کا عملی نتیجہ کیا ہو گا۔ اسلام کی تعلیم بتاتی ہے کہ اہل ایمان کے لیے صرف دوسرا طریقہ درست ہے، پہلا طریقہ ان کے لیے درست نہیں۔ یعنی عملی نتیجہ کو دیکھ کر اقدام کرنا۔ جب حالات بتاتے ہوں کہ اہل ایمان اگر اصلاح کے نام پر ارباب اقتدار کے خلاف اقدام کریں تو اس کا عملی نتیجہ الٹا نکلے گا۔ ایسا اقدام صرف بگاڑ کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔ جب صورت حال ایسی ہو تو اہل ایمان پر فرض ہوگا کہ وہ عملی اقدام سے اپنے آپ کو بچائیں۔ وہ دعا کریں اور خاموشی کے ساتھ پر امن دائرہ میں اصلاح کی کوشش کریں۔ ایسی حالت میں اہل اقتدار کے خلاف اقدام کرنا ایک گناہ کا کام ہے، وہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page