Al-Risala · November 2004 · page 15

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۵

میں پلنے کی وجہ سے کچھ خیالات کے ساتھ conditioned (متاثر سوچ) والا ہو گیا تھا۔ اس لئے اس کی ڈی کنڈیشنگ (deconditioning) کے لئے مولانا کی ہیمرنگ (hammering) سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی تھی۔ ۳ مہینے اس پر اس سے گزرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جن سوالوں کے جواب مجھے دلیل اور سائنٹفک ریزنگ کے ساتھ چاہئے تھے وہ مولانا نے اس طرح سے دئے کہ نہ صرف وہ چند سوالات بلکہ مزید سوالات جو میرے ذہن میں تھے، ان کے بھی جوابات مجھے تسلی بخش طریقہ سے مل گئے۔ اس ڈی کنڈیشنگ کے عمل کے نتیجہ میں میرے ذہن میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ جو مذہب اور یقین میرے لئے صرف روایتی تھا وہ شعوری بن گیا۔ پہلے میں خدا، اس کا کریشن پلان اور آخرت کی زندگی کو ایک کہانی جیسی چیز سمجھ کر زندگی گزارتا تھا۔ لیکن مولانا کی گائڈنیس (guidance) نے اس یقین کو اتنا حقیقی بنا دیا کہ آج ہر کام کرنے سے پہلے یہ خیال دل میں آتا ہے کہ اس کام کا نتیجہ جنت کے لئے مجھے کوالیفائی (qualify) کرے گا یا ڈس کوالیفائی (disqualify) کر دے گا۔ پچھلے چار سال کے دوران مولانا سے جو اسپرچول وزڈم (spiritual wisdom) مجھے ملی وہ میرے لئے اسلام کی ری ڈسکوری (rediscovery) بن گئی۔

رجت ملہوترا : جب میں تین سال پہلے مولانا سے ملا تب میرے ذہن کو دو چیزیں پریشان کرتی تھیں۔ مسلمان اور اسلام سے نفرت اور دوسرا یہ کہ میرے وجود کا مقصد کیا ہے۔ اس نفرت اور کنفیوژن (confusion) میں میں بڑا ہوا۔ میں نے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں لوگوں سے گفتگو کی اور کتابیں پڑھیں لیکن کوئی آدمی بھی میرے سوالات کا تشفی بخش جواب نہ دے سکا۔ جب میں مولانا سے ۳ سال پہلے ملا تو انھوں نے مذہب اسلام کا صحیح چہرہ میرے سامنے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مسلمان اور اسلام میں فرق کرنا چاہیے۔ ہمیں مسلمان کو اسلام کی لائٹ میں جانچنا چاہئے نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی لائٹ میں:

We should not judge Islam in the light of Muslims, rather we should judge Muslims in the light of Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page