hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۷
فریدہ خانم : میں ان اسپرپکول کلاس کو تین سال سے اٹنڈ کر رہی ہوں۔ اور آج میں اپنے آپ کو ایک بدلا ہوا انسان پاتی ہوں۔ میں خدا کے فضل سے ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئی۔ میری تعلیم مسلم اداروں میں ہوئی ۔ میں اسلامک اسٹڈیز کی استاد ہوں ۔ مزید یہ کہ میں نے مولانا کی بہت سی کتابوں کا ترجمہ اردو سے انگریزی میں کیا ہے۔ لیکن ان ساری معلومات کے باوجود مجھے معرفت والا اسلام حاصل نہیں تھا۔ معرفت والا اسلام مجھے ان اسپر پکول کلاسز میں شرکت سے ملا۔ چوں کہ کلاسز ریگولر ہوتی تھیں ۔ بار بار لوگ سوالات اٹھاتے تھے۔ یعنی جو سوالات اور شبہات آج کے انسان کے ذہن میں ہیں۔ سائنسی دور سے پہلے لوگ مذہب کے معاملہ میں سوال نہیں کرتے تھے۔ وہ عقیدہ کے طور پر مذہبی تعلیمات کو مان لیتے تھے۔ اس کلاس کی اس خصوصیت سے کہ سوال اٹھانے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ کیوں کہ صرف کوئی کتاب پڑھ لینے سے وہ کبھی بھی میرے ذہن کا حصہ نہیں بن جاتی جب تک کہ میں اس کے مضمون (content) کو لاجیکل انداز سے گہرائی سے نہ سمجھ لوں۔ اس کلاس میں مجھے ہر بات کی عقلی توجیہ (rational explanation) ملتی اور وہ میرے ذہن کا حصہ بن جاتی۔
سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں پوری طرح کلیئر (clear) ہوئی وہ یہ کہ یہ دنیا انسان کاٹسٹ لینے کے لئے ڈیزائن (design) کی گئی ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملا ہوا ہے وہ اس کاٹسٹ پیپر ہے۔ اگر کسی کو کم ملا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو بلکا ٹسٹ پیپر دیا گیا ہے۔ اس بات کو نہ سمجھنے سے لوگ مسلسل ایک دوسرے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ میرا بھی پہلے یہی حال تھا۔ اب اگر کوئی چیز مجھے کم ملی ہوئی ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہی میرے حق میں بہتر ہے۔ کیوں کہ دنیا کے کسی ٹسٹ (test) میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کو مشکل پیپر دیا جائے۔ ہر آدمی جو کسی ٹسٹ میں بیٹھتا ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کو آسان پیپر ملے تاکہ وہ ٹسٹ کو آسانی کے ساتھ کلیئر کرلے۔ لہٰذا اس حقیقت کے واضح ہونے کے بعد کہ دنیا کی پوری زندگی ایک ٹسٹ پیپر ہے، میری سوچ بالکل بدل گئی ہے۔ اب مجھے جو کچھ بھی ملا ہوا ہے میں اس پر راضی ہوں ۔ اس کی وجہ سے اب میرے اندر جھنجھلاہٹ ختم ہوگئی۔ میرے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues