Al-Risala · November 2004 · page 18

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۸

پازیٹیو تھنکنگ آگئی اور میں ہر وقت لوگوں کو معاف کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاتی ہوں۔ یہ تھا اس دنیا کے بارے میں ہمارا نظریہ (attitude)۔ لیکن اصل چیز جو ہمیں اس کلاس سے ملی وہ تھی، خدا سے گہر تعلق اور جنت کا حریص ہو جانا۔ ہر مسلمان جنت کی آرزو رکھتا ہے اور جنت کے لئے دعا مانگتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ اسی طرح اپنے ماں باپ سے اور اپنے ماحول سے سنتے چلے آرہے ہیں اور ان الفاظ کو وقتاً فوقتاً دہراتے رہتے ہیں۔ اس کلاس نے ہمارے لئے خدا اور جنت اور آخرت کو اپنی ڈسکوری (discovery) بنا دیا۔ ہم نے گہرائی سے ان حقیقتوں کو سمجھا اور ان کو شعوری طور پر دریافت کیا۔ ان کو اپنے شعوری مائنڈ کا ایک حصہ بنایا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئی لمحہ نہیں ہوتا جب ہم خدا سے غافل ہوں۔ جب ہم جنت کی یاد نہ کر رہے ہوں ۔ جب ہم دنیا کی تکلیفوں پر صرف اس لئے نہ صبر کر رہے ہوں کہ خدا کے یہاں اس کا بے حساب اجر ملے گا۔ ہم کو لوگوں سے شکایت ہوتی ہے لیکن پھر ان سے جڑے رہتے ہیں کہ یہی خدا کا حکم ہے۔ خدا کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دینا۔

ہماری مرضی، ہماری خواہشات کتنا ہی ہمیں کسی دوسرے راستہ پر جانے کو کہیں لیکن اگر ہماری خواہشات خدا کی مرضی کے خلاف ہیں تو ہمارے ذہن کے کسی خانہ میں بھی نہیں آتا کہ ہم بغاو ت کریں اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی ایک زندگی بنائیں۔ اس کلاس سے ہماری سمجھ میں آیا کہ جتنا زیادہ ہم صبر کریں گے خدا کے واسطے اتنا ہی زیادہ ہم اپنے نفس کو پاک کریں گے۔ اور جب تک ہم اپنے نفس کو پاک نہ کریں گے تب تک ہم جنت میں جانے کے لائق نہ ٹھہریں گے۔ ہم نے اس کو خود محسوس کیا ہے کہ صبر کرتے ہی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری روح (soul) مزید پاکیزہ ہوگئی ہے۔ کلاس میں ہمیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے نام سے ایک پرفیکٹ ورلڈ بنائی۔ اس پرفیکٹ ورلڈ میں اللہ تعالیٰ کو پرفیکٹ انسان بسانا تھا۔ اس لئے انسان کو اس دنیا میں آزمائش (trial) کے لئے بھیج دیا گیا تا کہ وہ دنیا کے تمام تحریصات (temptations) سے گزر کر اپنے ٹسٹ پر پورا اترے اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم لافانی نعمت کا استحقاق حاصل کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page