Al-Risala · November 2004 · page 19

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۱۹

جنت حاصل کرنے کی یہ تمنا جو ہمارے دل کی گہرائیوں میں بسی ہوئی ہے، ہمیں پہلی بار اس کلاس سے معلوم ہوا کہ اس کا راستہ کدھر سے جاتا ہے۔ اس کا راستہ ہے، پریا ملک کی زبان میں: hammering, hammering, hammering ہیمرنگ کسی کو اچھی نہیں لگتی، اور میں کوئی استثناء نہیں۔ لیکن جنت حاصل کرنے کی زبردست خواہش نے ہمارے لیے اس ہیمرنگ کو آسان بنا دیا۔ بلاشبہ قیمتی جنت کی یہ بہت سستی قیمت ہے۔ محمد اقبال پرودھان: میں بھٹک رہا تھا تلاش میں کہ سچا اسلام ہے کیا۔ کافی لوگوں سے سمپرک میں رہا۔ ہر جگہ اس طرح کی باتیں بتائی گئیں کہ وہ ہضم نہیں ہوتیں۔

دنیا کے دائرے میں بالکل رہ کر ہی ہر کوئی اپنی بات بتاتا تھا۔ میں بہت ہی جدوجہد میں تھا کہ کس کی بات مانوں اور کس کی۔ کچھ دین کی کتابیں پڑھیں، وہ کچھ بتاتی تھیں، مولانا لوگ کچھ اور بتاتے تھے۔

تب پریا ملک کے ذریعہ میری ملاقات مولانا وحید الدین سے ہوئی۔ یہاں آکر میں نے جانا کہ سچا اسلام کیا ہے اور اس کو زندگی میں کیسے اپنایا جا سکتا ہے۔ یہاں آکر میرے جو بھی سوال تھے ان کا جواب بناما نگے ہی مل گیا۔

مجھے معلوم ہوا کہ ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے۔ ہم کیوں یہاں آئے ہیں۔ اور کیوں سب کچھ کر رہے ہیں۔

مولانا کے یہاں ہمیں معلوم پڑا کہ ہمارا اصلی مقصد یہ دنیا جینا نہیں ہے۔ بلکہ اس دنیا میں رہ کر جنت میں جانے کی تیاری کرنا ہے اور مولانا کا "دعوة مشن" یہی کام انجام دیتا ہے۔ یہاں آکر ہمارا مقصد جنت پانا ہو گیا ہے۔ ابھی مجھے جنت میں جانے کے لئے مولانا سے بہت کچھ فیض حاصل کرنا ہے۔

منجو رمانی: مولانا وحید الدین سے ملنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میں تقریباً تیس سال سے بے مطلب زندگی جی رہی تھی۔ زندگی کے معنی ڈھونڈنے میں میں نے اپنی زندگی کے کئی سال

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page