hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰
ادھر ادھر بھٹک کر بتا دیے ۔ پر ذہن میں اٹھے کئی سوالوں کا جواب صحیح معنوں میں نہیں ملا۔ جیسے کہ اس دنیا میں میں کس لئے آئی ہوں ۔ میری زندگی کے کیا معنی ہیں اور اس کائنات کو بنانے والے کی کیا سچائی ہے۔ زندگی، موت اور موت کے بعد کی کیا سچائی ہے۔
جب مولانا سے میری ملاقات ہوئی تو ان سے میرے ذہن میں اٹھے اور بھی کئی سوالوں کا جواب مل گیا۔ خدا کی بنائی اس دنیا کے معنی پتے لگے۔ یہ جانا کہ اس دنیا کا دودھا تا صرف ایک ہے اور اس کا نہ کوئی ساتھی ہے اور نہ ہی اس کے برابر کوئی ہے۔ خدا نے منش کو وہ ساری چیزیں دی ہیں جن کی آوشکتا اس کے جگ میں جیون گزارنے کے لئے ہے۔ خدا نے اس دنیا سے الگ ایک بہترین دنیا بنائی ہے۔ ہر انسان اس دنیا میں ایک امتحان دینے آیا ہے۔ خدا نے صرف انسانوں کو ہی آزادی دی ہے کہ وہ اپنی زندگی جیسے چاہے جی لے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو مانے یا نہکارے۔ جو انسان سچا ہوگا وہ خدا کو مانے گا اور صحیح راہ زندگی میں اپنائے گا۔ اسے خدا اس زندگی کے بعد جنت دے گا۔ جہاں ہمیشہ سکھ، خوشی اور شانتی ملے گی اور جو انسان خدا کو نہیں مانے گا، خدا کی دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرے گا، اسے خدا موت کے بعد جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لئے جھونک دے گا۔
زندگی، موت اور اس کے بعد کی زندگی کی سچائی کو مولانا سے جان کر خدا سے میں دعا کرتی ہوں کہ میرے قدم زندگی کی راہ پر کبھی نہ ڈگمگائیں تاکہ میرے قدم جنت کی اور بڑھے۔ خدا سے ہمیں ہمیشہ شکر کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایک بہترین زندگی دی ہے جسے ہمیں صحیح راہ پر لگانا چاہئے تا کہ ہم سب زندگی کے امتحان میں پاس ہو کر جنت کی اور بڑھیں:
پریا ملک : پریا ملک نے اسپرچول کلاس کے بارے میں اپنا تاثر بتایا۔ انھوں نے اپنی بات انگریزی میں کہی۔ ان کی یہ بات الگ صفحہ پر درج کی جا رہی ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues