Al-Risala · November 2004 · page 22

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲

میرا تجربہ ہے کہ اگر آپ ایسا کریں کہ اوسط ذہن کے لوگوں سے ملیں اور ان سے بات کریں تو آپ کا فکری معیار زیادہ اونچا نہیں ہوگا۔ آپ دوسروں کو عوامی معیار پر خطاب کریں گے اور خود بھی آپ کی ذہنی سطح عوامی معیار پر ٹھہری رہے گی۔ لیکن اگر آپ ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان اپنا پروگرام چلائیں تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ آپ کا ذہنی معیار بلند ہوتا جائے گا۔ لوگ آپ سے اعلیٰ سطح کے سوالات کریں گے اور آپ کا ذہن مجبور ہوگا کہ وہ خود بھی اعلیٰ سطح پر سوچنے اور زیادہ برتر سطح پر سوال کا جواب فراہم کرے۔ اس طرح آپ کا ذہن مسلسل طور پر ایک قسم کے فکری چیلنج سے دوچار رہے گا، اور فطرت کے قانون کے مطابق، یہ چیلنج آپ کے لئے ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا ذریعہ بنارہے گا۔ اس معاملہ پر جب میں غور کرتا ہوں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اسپرچول کلاس چلانا خود میرے لئے ذہنی ارتقاء کا سبب بنا ہے۔ کئی پہلوؤں سے میری فکر میں زیادہ وضوح (clarity) آئی ہے۔

اس کی ایک مثال روحانیت (spirituality) کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا کہ روحانیت کا موضوع چالیس سال سے بھی زیادہ مدت سے میری توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر پچھلے سالوں میں اسپرچول کلاس کے دوران یہ موضوع جس طرح مجھ پر واضح ہوا، وہ اس سے پہلے واضح نہ تھا۔ پہلے جو چیز میرے لئے ایک فطری چیز تھی وہ اب ایک شعوری چیز بن گئی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اب میں زیادہ بہتر طور پر اس پوزیشن میں ہوں کہ روحانیت کے موضوع کی وضاحت کر سکوں۔

روحانیت کا موضوع کم از کم ۵ ہزار سال سے انسان کی تلاش کا موضوع رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں تو اس موضوع نے گویا کہ فیڈ (fad) کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ فلسفہ اور مذہب اور مسٹرزم اور تصوف اور یوگا والوں نے اس موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع کی ہیں۔ میں اپنی دلچسپی کی بنا پر لمبی مدت سے ان کتابوں کو پڑھتارہا ہوں۔ مگر ان کتابوں سے مجھے اطمینان حاصل نہیں ہوا۔ پچھلے چند سالوں کے دوران مجھ پر ایک نئی حقیقت کھلی جو میں نے ابھی تک نہ کبھی پڑھی تھی اور نہ کبھی سنی تھی۔ ایسا اسپرچول کلاس کے دوران ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page