hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۳
مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ روحانیت (spirituality) کے دو دور ہیں۔ ایک، ماقبل سائنس دور (pre scientific era) اور دوسرے ما بعد سائنس دور (post scientific era) جدید حیاتیاتی سائنس کے ظہور سے پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ انسان کے اندر دو قسم کی استعداد (faculty) پائی جاتی ہے، قلب اور دماغ۔ قلب احساس اور جذبات کا مرکز ہے، اور دماغ سوچ (thinking) کا مرکز ہے۔ اس تقسیم کی بنا پر روحانیت ایک قلب پر مبنی (heart-based) ڈسپلن بنا ہوا تھا۔ چوں کہ روحانیت کا تعلق آدمی کے احساسات اور جذبات سے ہے اور احساسات اور جذبات کا تعلق قلب سے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری امر تھا کہ روحانیت کے حصول کے لئے قلب کو مرکز بنا کر محنتیں اور ریاضتیں کی جائیں۔ ذکر جہری جس میں مخصوص طریقہ سے لا الہ الا اللہ بول کر قلب پر ضرب لگائی جاتی ہے، اسی تصور کی ایک مثال ہے۔ عرصہ سے میرا خیال تھا کہ روحانیت کے علم بردار حقیقی روحانیت کا تجربہ نہ کر سکے۔ تمام مسلم بزرگوں اور ہندو سوامیوں کی روحانی عظمت فرضی کرامتوں اور بناوٹی چمکداروں پر قائم ہے نہ کہ ربانی معنوں میں حقیقی روحانیت پر۔ مگر اس کا اصل سبب کیا ہے، یہ مجھے پچھلے سالوں کے درمیان ہی سمجھ میں آیا۔ مابعد سائنسی دور میں پہلی بار انسان نے یہ دریافت کیا کہ قلب احساسات و جذبات کا مرکز نہیں، وہ صرف خون کی گردش (blood circulation) کا ایک آلہ ہے۔ اس نئی دریافت نے مجھ کو پہلی بار وہ فریم ورک دیا جس کی روشنی میں ہم روحانیت کے معاملہ کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ پہلے چوں کہ انسان کے پاس صحیح فریم ورک ہی موجود نہ تھا اس لئے وہ روحانیت کے معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ مابعد سائنسی دور میں پہلی بار انسان کو معلوم ہوا کہ تفکر اور احساس دونوں کا مرکز دماغ ہے۔ اس لئے روحانیت کے حصول کے لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں اپنی کوشش کا مرکز دماغ کو بنائے نہ کہ قلب کو۔ کیوں کہ ہر قسم کے فکری اور حیاتی عمل کا مرکز صرف دماغ ہے نہ کہ قلب۔ گویا کہ قلب پر دھیان لگانے والے لوگ وہاں روحانیت کی تلاش کر رہے تھے جہاں روحانیت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اس دریافت نے مجھے بتایا کہ روحانیت کے حقیقی حصول کے لئے مراقبہ اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues